قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : كَانَ عُيَيْنَةُ بْنُ الْمُنْذِرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَهُ رَجُلٌ آخَرُ ، وَعِنْدَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ ، فَاسْتَسْقَى ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ ، فَلَمَّا أَخَذَ يَشْرَبُ سَتَرُوهُ ، فَقَالَ عُيَيْنَةُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا هَذَا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ خُلَّةٌ آتَاهَا اللهُ تَعَالَى قَوْمًا ، وَمَنَعَكُمُوهَا ، هَذَا الْحَيَاءُ " .
هَذَا مُرْسَلٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
هَذَا مُرْسَلٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
ترجمہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عیینہ بن منذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مجلسِ مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی موجود تھے اور وہاں آپ ﷺ کی بعض ازواجِ مطہرات بھی تشریف فرما تھیں، اس شخص نے پینے کے لیے پانی طلب کیا تو اسے پینے کی کوئی چیز پیش کی گئی، جب اس نے پینا شروع کیا تو (پردہ داری کی خاطر) اسے لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا گیا، اس پر عیینہ نے (حیرت سے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیا معاملہ ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ اخلاقی خصلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو عطا فرمائی ہے اور تمہیں اس سے محروم رکھا ہے، اور یہ حیا ہے“۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ الْفُحْشَ لَوْ كَانَ رَجُلًا لَكَانَ رَجُلَ سَوْءٍ " .
رَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ ، وَزَادَ : " وَلَوْ كَانَ الْحَيَاءُ رَجُلًا لَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا " .
رَوَاهُ أَبُو الشَّيْخِ ، وَزَادَ : " وَلَوْ كَانَ الْحَيَاءُ رَجُلًا لَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا " .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اے عائشہ! بے شک فحش گوئی اور بے ہودگی اگر انسانی روپ میں ہوتی تو یقیناً وہ ایک برا آدمی ہوتا۔“
اسے ابو الشیخ نے روایت کیا ہے اور انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: ”اور اگر حیا و شرم انسانی صورت میں ہوتی تو یقیناً وہ ایک نہایت نیک اور صالح آدمی ہوتا۔“
اسے ابو الشیخ نے روایت کیا ہے اور انہوں نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: ”اور اگر حیا و شرم انسانی صورت میں ہوتی تو یقیناً وہ ایک نہایت نیک اور صالح آدمی ہوتا۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ صَفْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ دِينٍ خُلُقٌ ، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ " .
هَذَا مُرْسَلٌ .
هَذَا مُرْسَلٌ .
ترجمہ
یزید بن طلحہ بن رکانہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً ہر دین کا ایک مخصوص اخلاق اور بنیادی جوہر ہوتا ہے، اور اسلام کا امتیازی خلق اور وصفِ خاص حیا ہے“۔
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ قَالَ : مَرَرْتُ عَلَى أَعْرَابِيٍّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ ، فَسَلُوهُمَا اللهَ تَعَالَى " .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس امت سے سب سے پہلے جو چیزیں اٹھا لی جائیں گی وہ حیا اور ایمان ہیں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں کا سوال کیا کرو۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں قزعہ بن سوید راوی ضعیف ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں قزعہ بن سوید راوی ضعیف ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : أُسَيْرٌ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ " .
ترجمہ
حمید بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی جن کا نام «أُسَيْر» (اسیر رضی اللہ عنہ) تھا، کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ» حیا اور شرم و وقار سے تو صرف خیر و بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کا بنیادی متن صحیح بخاری (6117) اور صحیح مسلم (37) میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کا بنیادی متن صحیح بخاری (6117) اور صحیح مسلم (37) میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے۔