کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: جھوٹ اور ظلم کی ممانعت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ الزِّبْرِقَانِ ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْلُحُ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ : يَكْذِبُ فِي الْحَرْبِ ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ عَلَى امْرَأَتِهِ لِيُرْضِيَهَا " .
خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، رَوَاهُ عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَهْرٍ مُرْسَلًا .
وَخَالَفَ دَاوُدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، رَوَاهُ عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ مُطَوَّلًا .
2628 \ 2 - قَالَ إِسْحَاقُ : أَنْبَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَبُو هَمَّامٍ ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : بُعِثَ ( ح ) .
2628 \ 3 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بِهَذَا السَّنَدِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، فَمَرُّوا بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَقَالُوا : يَا أَعْرَابِيُّ ، اجْزُرْ لَنَا شَاةً ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ بِعَتُودٍ مِنْ غَنَمِهِ ، فَذَبَحُوهَا ، قَالَ : فَظَلُّوا يَطْبُخُونَ وَيَشْوُونَ ، حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ، وَأَظَلَّ بِظِلِّهِ عَلَى غَنَمِهِ ، فَقَالُوا : يَا أَعْرَابِيُّ ، أَخْرِجْ لَنَا غَنَمَكَ ، حَتَّى نَقِيلَ فِي الْمِظَلَّةِ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللهَ ، فَإِنَّهَا وُلَّدٌ ، فَإِنْ أَنَا أَخْرَجْتُهَا فَضَرَبَتْهَا السَّمُومُ طَرَحَتْ ، فَقَالُوا : أَنْفُسُنَا أَعَزُّ عَلَيْنَا مِنْ غَنَمِكَ ، قَالَ : فَأَخْرَجُوهَا فَضَرَبَتْهَا السَّمُومُ ، فَطَرَحَتْ ، قَالَ : ثُمَّ رَاحُوا مِنْ عِنْدِهِ ، وَتَرَكُوهُ ، حَتَّى أَتَوُا الْمَدِينَةَ ، فَإِذَا بِهِ قَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَلَمَّا جَاؤُوا سَأَلَهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا ذَكَرَ ، فَأَنْكَرُوا ، فَاعْتَمَدَ رَجُلًا مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، إِنْ كَانَ مَا فِي أَصْحَابِكَ خَيْرٌ ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ ، اصْدُقْنِي " ، فَقَالَ : صَدَقَ الْأَعْرَابِيُّ يَا رَسُولَ اللهِ ، الْخَبَرُ مِثْلُ مَا قَالَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَهَافَتُونَ فِي الْكَذِبِ تَهَافُتَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ ، كُلُّ كَذِبٍ مَكْتُوبٌ لَا مَحَالَةَ ، إِلَّا أَنْ يَكْذِبَ الرَّجُلُ فِي الْحَرْبِ ، فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ ، أَوْ يَكْذِبَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا ، أَوْ يَكْذِبَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا " .
ترجمہ
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جھوٹ بولنا درست نہیں ہے سوائے تین صورتوں کے: ایک یہ کہ انسان جنگ میں جھوٹ بولے کیونکہ جنگ چال اور تدبیر کا نام ہے، دوسرا یہ کہ دو افراد کے درمیان صلح و صفائی کروانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے، اور تیسرا یہ کہ شوہر اپنی بیوی کو راضی و خوش کرنے کے لیے اس سے (محبت آمیز) جھوٹ بولے۔“
یحییٰ بن ابی زائدہ نے اس روایت میں داؤد کی مخالفت کی ہے اور اسے شہر سے مرسل بیان کیا ہے، نیز داؤد نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی بھی مخالفت کی ہے جنہوں نے اسے شہر کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، جسے اسماعیل بن عیاش نے ابن خثیم سے مفصل بیان کیا ہے۔
شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جنگی مہم پر مختصر لشکر روانہ فرمایا، وہ لوگ راستے میں ایک دیہاتی کے پاس سے گزرے اور اس سے کہا: اے اعرابی! ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو، وہ اپنی بکریوں میں سے ایک سالہ جوان بکرا لے آیا جسے انہوں نے ذبح کر کے دوپہر تک پکایا اور بھونا۔ اس دوران وہ دیہاتی اپنی بکریوں کو لے کر ایک سائبان کے سائے میں بیٹھا تھا، لشکر والوں نے اس سے کہا: اے اعرابی! اپنی بکریاں یہاں سے نکال دو تاکہ ہم یہاں دوپہر کا آرام (قیلولہ) کر سکیں، اس نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں کہ ایسا نہ کرو، کیونکہ یہ بکریاں حاملہ ہیں، اگر میں نے انہیں باہر نکالا اور انہیں لو لگ گئی تو ان کے بچے ضائع ہو جائیں گے، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اپنی جانیں تمہاری بکریوں سے زیادہ عزیز ہیں، چنانچہ انہوں نے بکریوں کو زبردستی دھوپ میں نکال دیا جس سے تپش کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ پھر وہ لوگ وہاں سے کوچ کر گئے لیکن جب مدینہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ اعرابی ان سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پہنچ کر سارا ماجرا سنا چکا تھا، جب آپ ﷺ نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے انکار کر دیا، تب آپ ﷺ نے ان میں سے ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمایا: ”اے فلاں! اگر تمہارے ساتھیوں میں کچھ بھی خیر باقی ہے تو مجھے امید ہے کہ وہ تمہارے پاس ہوگی، لہٰذا مجھے سچ سچ بتاؤ۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اعرابی نے سچ کہا ہے، واقعہ بالکل وہی ہے جو اس نے بیان کیا۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جھوٹ میں اس طرح دھڑا دھڑ گرے جا رہے ہو جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں، یاد رکھو! ہر جھوٹ لازمی طور پر (نامۂ اعمال میں) لکھا جاتا ہے، سوائے اس کے کہ کوئی شخص جنگ میں جھوٹ بولے کیونکہ جنگ ایک چال اور حکمتِ عملی ہے، یا دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولے، یا شوہر اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے اس سے (خوش کلامی والا) جھوٹ بولے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2628
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2628 / 2»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ سَرِيَّةً ضَاحِيَةَ مُضَرَ ، فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ صَحْرَاءَ ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا إِذَا هُمْ بِقُبَّةٍ ، فَإِذَا بِفِنَائِهَا غَنَمٌ مُرَاحَةٌ ، فَأَتَوْا صَاحِبَ الْغَنَمِ ، فَوَقَفُوا عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : أَجْزِرْنَا ، فَأَخْرَجَ لَهُمْ شَاةً ، فَسَخِطُوهَا ، ثُمَّ أَخْرَجَ لَهُمْ شَاةً أُخْرَى فَسَخِطُوهَا ، فَقَالَ : مَا فِي غَنَمِي إِلَّا فَحْلُهَا أَوْ شَاةٌ رُبَّى ، فَأَخَذُوا شَاةً مِنَ الْغَنَمِ ، فَلَمَّا أَظْهَرُوا ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ ظِلَالٌ يَسْتَظِلُّونَ بِهَا مِنَ الْحَرِّ ، وَهُمْ بِأَرْضٍ لَا ظِلَالَ فِيهَا ، وَقَدْ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ غَنَمَهُ فِي ظُلَّتِهِ ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَحَقُّ بِالظِّلِّ مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ ، فَأَتَوْهُ ، فَقَالُوا : أَخْرِجْ غَنَمَكَ الْمُسْتَظِلَّ فِي هَذَا الظِّلِّ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ مَتَى تُخْرِجُونَ غَنَمِي تَمْرَضُ ، وَتَطْرَحُ أَوْلَادَهَا ، وَأَنَا امْرُؤٌ قَدْ تَزَكَّيْتُ ، وَأَسْلَمْتُ ، فَأَخْرَجُوا غَنَمَهُ ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا سَاعَةٌ ، حَتَّى تَنَاغَرَتْ ، وَطَرَحَتْ أَوْلَادَهَا ، فَأَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ سَرِيعًا ، حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صُنِعَ بِهِ ، فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا ، ثُمَّ أَجْلَسَهُ ، حَتَّى قَدِمَ الْقَوْمُ ، فَسَأَلَهُمْ ، فَقَالُوا : كَذَبَ ، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ الْغَضَبِ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : وَالَّذِي أُقْسِمُ بِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يُخْبِرَكَ اللهُ بِخَبَرِي وَخَبَرِهِمْ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَادِقٌ ، فَانْتَجَاهُمْ رَجُلًا رَجُلًا ، فَلَمَّا انْتَجَى مِنْهُمْ رَجُلًا فَنَاشَدَهُ اللهَ تَعَالَى إِلَّا حَدَّثَهُ كَمَا حَدَّثَهُ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، فَلَا يَحْمِلَنَّكُمْ أَنْ تُتَابِعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ ، كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ : امْرُؤٌ كَذَبَ امْرَأَتَهُ لِتَرْضَى عَنْهُ ... " الْحَدِيثَ .
وَرَوَاهُ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ النَّوَّاسِ أَيْضًا مُطَوَّلًا .
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ مضر کے نواحی علاقے کی جانب ایک جنگی دستہ روانہ فرمایا، وہ ایک ریگستانی علاقے میں رکے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے وہاں ایک خیمہ دیکھا جس کے سامنے والے صحن میں بھیڑ بکریاں آرام کر رہی تھیں، وہ ریوڑ کے مالک کے پاس آئے اور اس کے پاس کھڑے ہو کر مطالبہ کیا کہ ”ہمیں ذبح کرنے کے لیے کوئی جانور دو“، اس نے انہیں ایک بکری نکال کر دی تو انہوں نے اسے حقیر سمجھ کر ناپسند کیا، پھر اس نے دوسری بکری نکالی تو اسے بھی ناپسند کر دیا، اس مالک نے کہا: ”میرے ریوڑ میں اب صرف نر مینڈھا یا دودھ پلانے والی (بچے والی) بکری ہی باقی ہے“، لیکن انہوں نے ریوڑ سے ایک بکری زبردستی لے لی، پھر جب دوپہر کا وقت ہوا تو ان کے پاس تپش سے بچنے کے لیے کوئی سایہ نہ تھا اور وہ ایسے بنجر علاقے میں تھے جہاں سایہ میسر نہ تھا، جبکہ اس دیہاتی کی بکریاں اپنے سائے والے چھپر میں بیٹھی تھیں، ان لوگوں نے کہا: ”ان بکریوں کے مقابلے میں ہم سائے کے زیادہ حق دار ہیں“، وہ اس کے پاس آئے اور کہا: ”اپنی بکریوں کو اس سائے سے باہر نکالو“، اس نے کہا: ”اگر تم نے میری بکریوں کو یہاں سے نکالا تو وہ بیمار ہو جائیں گی اور ان کے پیٹ کے بچے گر جائیں گے، اور میں تو وہ آدمی ہوں جس نے زکوٰۃ بھی دی ہے اور اسلام بھی قبول کیا ہے“، مگر انہوں نے اس کی بکریاں باہر نکال دیں، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ تپش کی وجہ سے ہانپنے لگیں اور ان کے حمل گر گئے، وہ اعرابی فوراً مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور آپ کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی خبر دی، جس پر آپ ﷺ کو سخت غصہ آیا، پھر آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا یہاں تک کہ وہ پورا گروہ بھی واپس آ گیا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اپنی صفائی میں کہہ دیا کہ ”اس نے جھوٹ بولا ہے“، جس پر رسول اللہ ﷺ کا غصہ کچھ کم ہوا، تب اس اعرابی نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں! مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو میری اور ان کی اصل حقیقت سے ضرور آگاہ فرما دے گا“، تو رسول اللہ ﷺ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ سچا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ان میں سے ایک ایک شخص کو تنہائی میں بلایا اور اسے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ وہ وہی بات بتائے جو اعرابی نے بتائی ہے، پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور وعظ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم ایک دوسرے کی پیروی میں جھوٹ کے پیچھے اس طرح مت بہو جس طرح پتنگے آگ میں گرتے ہیں، ابنِ آدم کا ہر جھوٹ اس کے خلاف لکھا جاتا ہے سوائے تین حالتوں کے: ایک وہ شخص جو اپنی بیوی سے اسے راضی کرنے کے لیے کوئی بات کہے...“
اسے مسلمہ بن علقمہ نے داؤد سے، انہوں نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے نواس رضی اللہ عنہ سے بھی تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2629
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10353، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 2914، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3215/2»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ ، وَالنَّمِيمَةُ عَذَابُ الْقَبْرِ " .
ترجمہ
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”خبردار! بلاشبہ جھوٹ چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے، اور چغل خوری قبر کے عذاب کا موجب بنتی ہے۔“
اس کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2630
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده موضوع »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 5735، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7440 ) م1»