المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الحياء باب: حیا کی فضیلت و اہمیت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : كَانَ عُيَيْنَةُ بْنُ الْمُنْذِرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَهُ رَجُلٌ آخَرُ ، وَعِنْدَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ ، فَاسْتَسْقَى ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ ، فَلَمَّا أَخَذَ يَشْرَبُ سَتَرُوهُ ، فَقَالَ عُيَيْنَةُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا هَذَا ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ خُلَّةٌ آتَاهَا اللهُ تَعَالَى قَوْمًا ، وَمَنَعَكُمُوهَا ، هَذَا الْحَيَاءُ " .
هَذَا مُرْسَلٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عیینہ بن منذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی مجلسِ مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی موجود تھے اور وہاں آپ ﷺ کی بعض ازواجِ مطہرات بھی تشریف فرما تھیں، اس شخص نے پینے کے لیے پانی طلب کیا تو اسے پینے کی کوئی چیز پیش کی گئی، جب اس نے پینا شروع کیا تو (پردہ داری کی خاطر) اسے لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا گیا، اس پر عیینہ نے (حیرت سے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کیا معاملہ ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ اخلاقی خصلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو عطا فرمائی ہے اور تمہیں اس سے محروم رکھا ہے، اور یہ حیا ہے“۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔