کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: دینی بھائیوں کی زیارت اور ان سے ملاقات کی فضیلت و بزرگی کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الطَّحَّانُ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ ، وَالشَّهِيدُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَالصِّدِّيقُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَالْمَوْلُودُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَالرَّجُلُ يَزُورُ أَخَاهُ فِي اللهِ تَعَالَى فِي جَانِبِ الْمِصْرِ فِي الْجَنَّةِ " .
ترجمہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے ان مردوں کے متعلق آگاہ نہ کروں جو اہل جنت میں سے ہیں؟ نبی جنت میں ہے، شہید اہل جنت میں سے ہے، صدیق اہل جنت میں سے ہے، (بچپن میں فوت ہونے والا) بچہ اہل جنت میں سے ہے، اور وہ شخص بھی جنتی ہے جو شہر کے کسی دور دراز گوشے میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت و ملاقات کے لیے جاتا ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں سری بن اسماعیل نامی راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، تاہم حدیث کے متن میں مذکور امور دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں سری بن اسماعیل نامی راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، تاہم حدیث کے متن میں مذکور امور دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي اللهِ تَعَالَى ، إِلَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى لَهُ فِي مَلَكُوتِ عَرْشِهِ : عَبْدِي زَارَنِي ، عَلَيَّ قِرَاهُ ، وَلَنْ أَرْضَى لِعَبْدِي بِقِرَاهُ إِلَّا فِي الْجَنَّةِ " .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے کسی بھائی کی زیارت و ملاقات کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عرش کی عظیم بادشاہت و سلطنت میں اس کے متعلق فرماتا ہے: میرے اس بندے نے محض میری خاطر زیارت کی ہے، چنانچہ اس کی مہمانی و ضیافت اب میرے ذمے لازم ہے، اور میں اپنے بندے کی اس میزبانی کے بدلے میں جنت سے کم کسی چیز پر ہرگز راضی نہیں ہوں گا۔"
اس روایت کو امام بزار نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی ضحاک بن حمزہ علمی اعتبار سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
اس روایت کو امام بزار نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی ضحاک بن حمزہ علمی اعتبار سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، كَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَوْنِهِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، وَمَنْ فَكَّ حَلْقَةً فَكَّ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی مدد و تعاون میں مصروف رہتا ہے، اللہ عزوجل اس وقت تک اس کی مدد و نصرت فرماتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، اور جس نے (کسی کی مصیبت یا تنگی کی) کوئی کڑی کھولی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سے (شدائد و تکالیف کی) کڑیاں کھول کر اسے خلاصی عطا فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم حدیث کا ابتدائی حصہ صحیح احادیث کے شواہد کی بنا پر مقبول و معروف ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم حدیث کا ابتدائی حصہ صحیح احادیث کے شواہد کی بنا پر مقبول و معروف ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكَمِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص ہم (مسلمانوں کے کامل طریقے) میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت و مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر و عزت بجا نہ لائے۔“
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور اس مضمون کی دیگر مستند روایات سننِ ترمذی اور ابو داؤد میں موجود ہیں جو اس کی تائید کرتی ہیں۔
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور اس مضمون کی دیگر مستند روایات سننِ ترمذی اور ابو داؤد میں موجود ہیں جو اس کی تائید کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زُرْ غِبًّا ، تَزْدَدْ حُبًّا " .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک آدھ دن کا ناغہ کر کے (یعنی کبھی کبھار اور مناسب وقفے سے) ملاقات کے لیے جایا کرو، اس طرح تمہاری باہمی الفت و محبت میں مزید اضافہ ہوگا۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ میں اور امام بیہقی نے ’شعب الایمان‘ میں روایت کیا ہے، محدثین کے نزدیک اگرچہ اس کی انفرادی اسناد میں کلام ہے لیکن متعدد شواہد اور متابعات کی موجودگی میں یہ حدیث حسن کے درجے کو پہنچ جاتی ہے اور اس کا مفہوم و معنیٰ بالکل درست ہے۔
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ میں اور امام بیہقی نے ’شعب الایمان‘ میں روایت کیا ہے، محدثین کے نزدیک اگرچہ اس کی انفرادی اسناد میں کلام ہے لیکن متعدد شواہد اور متابعات کی موجودگی میں یہ حدیث حسن کے درجے کو پہنچ جاتی ہے اور اس کا مفہوم و معنیٰ بالکل درست ہے۔