المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الحياء باب: حیا کی فضیلت و اہمیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2627
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : أُسَيْرٌ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ " .ترجمہ
حمید بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی جن کا نام «أُسَيْر» (اسیر رضی اللہ عنہ) تھا، کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ» حیا اور شرم و وقار سے تو صرف خیر و بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کا بنیادی متن صحیح بخاری (6117) اور صحیح مسلم (37) میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے۔