قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، بَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي رَجُلًا أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ " ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ : " كِتَابُ اللهِ تَعَالَى وَشَاهِدٌ " .
فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِتَابُ اللهِ تَعَالَى وَشَاهِدٌ " . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، هَذَا سَعْدٌ قَدِ اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ ، مَا تَزَوَّجَ ثَيِّبًا قَطُّ ، وَلَا قَدَرَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً طَلَّقَهَا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ ، وَأَنَا غَيُورٌ ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : عَلَى مَا يَغَارُ اللهُ تَعَالَى ؟ فَقَالَ : " عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ " .
فِيهِ انْقِطَاعٌ فِيمَا أَظُنُّ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ .
فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِتَابُ اللهِ تَعَالَى وَشَاهِدٌ " . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، هَذَا سَعْدٌ قَدِ اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ ، مَا تَزَوَّجَ ثَيِّبًا قَطُّ ، وَلَا قَدَرَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً طَلَّقَهَا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ ، وَأَنَا غَيُورٌ ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : عَلَى مَا يَغَارُ اللهُ تَعَالَى ؟ فَقَالَ : " عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ " .
فِيهِ انْقِطَاعٌ فِيمَا أَظُنُّ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: (یا رسول اللہ!) اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پاؤں تو کیا میں اسے تلوار سے مار دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے (ابتداً) ارشاد فرمایا: ”تلوار سے بڑھ کر بھلا اور کیا واضح دلیل ہو سکتی ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے اپنے اس قول سے رجوع فرما لیا اور ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب (کا حکم) اور گواہ (لازم ہے)۔“ اس پر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بول اٹھے: بھلا تلوار سے بڑھ کر اور کیا واضح دلیل ہوگی؟ رسول اللہ ﷺ نے پھر (وہی بات دہراتے ہوئے) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب اور گواہ۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے (انصار کو مخاطب کر کے) فرمایا: ”اے گروہِ انصار! یہ سعد ہیں جنہیں ان کی غیرت و حمیت نے اس قدر جوش دلایا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کی بھی مخالفت کرنے لگے ہیں۔“ انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! سعد بہت زیادہ غیرت مند ہیں، انہوں نے کبھی کسی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح نہیں کیا، اور ہم میں سے کسی میں یہ ہمت نہیں ہوتی کہ ان کی طلاق دی ہوئی عورت سے نکاح کر سکے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً سعد غیرت مند ہے، اور میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔“ ایک انصاری نے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کو کس بات پر غیرت آتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس مجاہد پر جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا ہو اور اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کے معاملے میں اس کی خیانت کی جائے۔“
اس حدیث کی سند میں میرے خیال میں انقطاع پایا جاتا ہے اور اس کا راوی ابو معشر ضعیف ہے۔
اس حدیث کی سند میں میرے خیال میں انقطاع پایا جاتا ہے اور اس کا راوی ابو معشر ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَبَا مُحَمَّدُ بْنُ عَثْمَةَ هُوَ ابْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الزَّمْعِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : إِنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ كُلَّ غَدَاةٍ ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ . فَكَانَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا أَحْضَرَتْ لَهُ مِنْهُ شَيْئًا ، فَيَمْكُثُ عِنْدَهَا .
وَإِنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَجَدَتَا مِنْ ذَلِكَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ ! قَالَ : فَتَرَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْعَسَلَ .
وَإِنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَجَدَتَا مِنْ ذَلِكَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ ! قَالَ : فَتَرَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْعَسَلَ .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ہر روز صبح اپنی تمام ازواجِ مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور انہیں سلام کرتے تھے؛ ان ازواج میں سے ایک کے پاس شہد ہوتا تھا، چنانچہ جب بھی آپ ﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں کچھ شہد پیش کرتیں اور آپ ﷺ وہاں کچھ دیر قیام فرماتے۔
اس معاملے پر سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نے رشک محسوس کیا، چنانچہ جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ سے مغافیر (ایک خاص قسم کے درخت کا گوند جس میں ناگوار بو ہوتی ہے) کی بو محسوس ہو رہی ہے!“ اس پر آپ ﷺ نے وہ شہد نوش فرمانا ترک کر دیا۔
اس معاملے پر سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نے رشک محسوس کیا، چنانچہ جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ سے مغافیر (ایک خاص قسم کے درخت کا گوند جس میں ناگوار بو ہوتی ہے) کی بو محسوس ہو رہی ہے!“ اس پر آپ ﷺ نے وہ شہد نوش فرمانا ترک کر دیا۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، بَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ وَالِدُ عَدِيِّ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : يَا زَيْدُ بْنَ ثَابِتٍ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ أَنْ : ( لَا تَنْتَفُوا مِنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ ) ؟ قَالَ : بَلَى .
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے زید بن ثابت! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم (قرآنِ مجید کی) ان آیات میں جن کی تلاوت کیا کرتے تھے، یہ بھی پڑھا کرتے تھے کہ: ﴿لَا تَنْتَفُوا مِنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ﴾ ”اپنے اصل باپ دادا سے روگردانی نہ کرو (یعنی انہیں چھوڑ کر دوسروں کی طرف منسوب نہ ہو) کیونکہ ایسا کرنا تمہارے لیے کفر (سخت ناشکری یا گناہ) ہے“؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں (مجھے بخوبی علم ہے)۔“
یہ کلمات ان آیاتِ مبارکہ میں سے ہیں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، اسی لیے یہ موجودہ مصحف میں شامل نہیں ہیں مگر ان کا علمی تذکرہ کتبِ احادیث و آثار میں محفوظ ہے۔
یہ کلمات ان آیاتِ مبارکہ میں سے ہیں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، اسی لیے یہ موجودہ مصحف میں شامل نہیں ہیں مگر ان کا علمی تذکرہ کتبِ احادیث و آثار میں محفوظ ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ مِنْ شَأْنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْأَرْبَعَةِ ".
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کے حضور لعان (میاں بیوی کا ایک دوسرے پر زنا کی تہمت لگانا) کا معاملہ پیش آیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں (تہمتِ زنا کی گواہی دینے والے) چار افراد میں سے پہلا بنوں۔“
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " لَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ ، وَهُوَ عُوَيْمِرُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا عَلَى حَمْلٍ ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنی عجلان کے ایک صاحب اور ان کی اہلیہ کے درمیان لعان کرایا، وہ صاحب عویمر بن حارث تھے؛ چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین حمل کی موجودگی میں لعان کا شرعی فیصلہ صادر فرمایا۔“