المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي اللعان وفي الغيرة باب: لعان اور غیرت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، بَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي رَجُلًا أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ " ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ فَقَالَ : " كِتَابُ اللهِ تَعَالَى وَشَاهِدٌ " .
فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّ بَيِّنَةٍ أَبْيَنُ مِنَ السَّيْفِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِتَابُ اللهِ تَعَالَى وَشَاهِدٌ " . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، هَذَا سَعْدٌ قَدِ اسْتَفَزَّتْهُ الْغَيْرَةُ حَتَّى خَالَفَ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ ، مَا تَزَوَّجَ ثَيِّبًا قَطُّ ، وَلَا قَدَرَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً طَلَّقَهَا .
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ سَعْدًا غَيُورٌ ، وَأَنَا غَيُورٌ ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : عَلَى مَا يَغَارُ اللهُ تَعَالَى ؟ فَقَالَ : " عَلَى رَجُلٍ مُجَاهِدٍ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى يُخَالَفُ إِلَى أَهْلِهِ " .
فِيهِ انْقِطَاعٌ فِيمَا أَظُنُّ ، وَأَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ .سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھا کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: (یا رسول اللہ!) اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پاؤں تو کیا میں اسے تلوار سے مار دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے (ابتداً) ارشاد فرمایا: ”تلوار سے بڑھ کر بھلا اور کیا واضح دلیل ہو سکتی ہے؟“ پھر آپ ﷺ نے اپنے اس قول سے رجوع فرما لیا اور ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب (کا حکم) اور گواہ (لازم ہے)۔“ اس پر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بول اٹھے: بھلا تلوار سے بڑھ کر اور کیا واضح دلیل ہوگی؟ رسول اللہ ﷺ نے پھر (وہی بات دہراتے ہوئے) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب اور گواہ۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے (انصار کو مخاطب کر کے) فرمایا: ”اے گروہِ انصار! یہ سعد ہیں جنہیں ان کی غیرت و حمیت نے اس قدر جوش دلایا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی کتاب کی بھی مخالفت کرنے لگے ہیں۔“ انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! سعد بہت زیادہ غیرت مند ہیں، انہوں نے کبھی کسی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح نہیں کیا، اور ہم میں سے کسی میں یہ ہمت نہیں ہوتی کہ ان کی طلاق دی ہوئی عورت سے نکاح کر سکے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً سعد غیرت مند ہے، اور میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔“ ایک انصاری نے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کو کس بات پر غیرت آتی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس مجاہد پر جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا ہو اور اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کے معاملے میں اس کی خیانت کی جائے۔“
اس حدیث کی سند میں میرے خیال میں انقطاع پایا جاتا ہے اور اس کا راوی ابو معشر ضعیف ہے۔