المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي اللعان وفي الغيرة باب: لعان اور غیرت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، بَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ وَالِدُ عَدِيِّ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : يَا زَيْدُ بْنَ ثَابِتٍ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ أَنْ : ( لَا تَنْتَفُوا مِنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ ) ؟ قَالَ : بَلَى .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے زید بن ثابت! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم (قرآنِ مجید کی) ان آیات میں جن کی تلاوت کیا کرتے تھے، یہ بھی پڑھا کرتے تھے کہ: ﴿لَا تَنْتَفُوا مِنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ﴾ ”اپنے اصل باپ دادا سے روگردانی نہ کرو (یعنی انہیں چھوڑ کر دوسروں کی طرف منسوب نہ ہو) کیونکہ ایسا کرنا تمہارے لیے کفر (سخت ناشکری یا گناہ) ہے“؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں (مجھے بخوبی علم ہے)۔“
یہ کلمات ان آیاتِ مبارکہ میں سے ہیں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، اسی لیے یہ موجودہ مصحف میں شامل نہیں ہیں مگر ان کا علمی تذکرہ کتبِ احادیث و آثار میں محفوظ ہے۔