المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوليمة— ولیمے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي اللعان وفي الغيرة باب: لعان اور غیرت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَبَا مُحَمَّدُ بْنُ عَثْمَةَ هُوَ ابْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الزَّمْعِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : إِنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ كُلَّ غَدَاةٍ ، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ . فَكَانَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا أَحْضَرَتْ لَهُ مِنْهُ شَيْئًا ، فَيَمْكُثُ عِنْدَهَا .
وَإِنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَجَدَتَا مِنْ ذَلِكَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ ! قَالَ : فَتَرَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْعَسَلَ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ہر روز صبح اپنی تمام ازواجِ مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور انہیں سلام کرتے تھے؛ ان ازواج میں سے ایک کے پاس شہد ہوتا تھا، چنانچہ جب بھی آپ ﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں کچھ شہد پیش کرتیں اور آپ ﷺ وہاں کچھ دیر قیام فرماتے۔
اس معاملے پر سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما نے رشک محسوس کیا، چنانچہ جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ سے مغافیر (ایک خاص قسم کے درخت کا گوند جس میں ناگوار بو ہوتی ہے) کی بو محسوس ہو رہی ہے!“ اس پر آپ ﷺ نے وہ شہد نوش فرمانا ترک کر دیا۔