کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: ان عورتوں کا بیان جن سے نکاح حرام ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخَذَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَقَامَهُ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ : حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا تَحِلُّ ابْنَةُ الْأَخِ وَابْنَةُ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
هَذَا الْإِسْنَادُ ضَعِيفٌ ، وَجَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ ، وَلَا مِنْ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
هَذَا الْإِسْنَادُ ضَعِيفٌ ، وَجَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ ، وَلَا مِنْ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما اور انہیں دو صفوں کے درمیان کھڑا کر کے ان سے فرمایا: ”آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو (حدیث) سنی ہے وہ بیان کیجیے!“ تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”رضاعت (دودھ پینے کے رشتے) کی بنیاد پر بھتیجی اور بھانجی (سے نکاح) حلال نہیں ہے۔“ یہ اسناد ضعیف ہے؛ اس کا راوی جابر (بن یزید) الجعفی سخت ضعیف ہے، نیز امام ابو جعفر کا سیدنا علی اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ ، قَالَتْ : وَفِي الْآخِرِ : " وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ ".
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر پائی گئی، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی جس کے آخری حصے میں یہ مرقوم تھا کہ: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں (بطورِ سوکن) نکاح نہ کیا جائے، اور کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر تین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ ".
ترجمہ
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت کی موجودگی میں (اس پر) کسی لونڈی سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نِكَاحُ الْحُرَّةِ عَلَى الْأَمَةِ طَلَاقُ الْأَمَةِ ".
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کسی لونڈی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس پر کسی آزاد عورت سے نکاح کر لینا، اس لونڈی کے لیے طلاق (کے مترادف) ہے“۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ انْتَزَعْنَا مِنْهُ امْرَأَتَهُ ، وَلَمْ نُجِزْ نِكَاحَهُ ".
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص بھی اس حال میں نکاح کرے کہ وہ احرام کی حالت میں ہو تو ہم اس سے اس کی بیوی کو علیحدہ کر دیں گے اور ہم اس کے اس نکاح کو جائز قرار نہیں دیں گے۔“
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا فِيهِ : " لَا جَلَبَ ، وَلَا جَنَبَ ، وَلَا وِرَاطَ ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ أَجْبَا فَقَدْ أَرْبَا ".
ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فرمان تحریر فرمایا جس میں یہ درج تھا کہ ”اسلام میں (زکوٰۃ کی وصولی کے لیے) جانوروں کو ہنکا کر دور لے جانا (جلب) اور تحصیل دار کا آبادی سے دور قیام کر کے مالکانِ مویشی کو وہاں آنے پر مجبور کرنا (جنب) جائز نہیں، اور نہ ہی زکوٰۃ سے بچنے کے لیے جانوروں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنا (وراط) درست ہے، اور اسلام میں وٹہ سٹہ کا نکاح (شغار) ممنوع ہے، نیز ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے غلے کو (اس کی پختگی اور صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے) بیچا تو یقیناً اس نے سود کا معاملہ کیا۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : " الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى نَفْسِهِ ، وَلَا عَلَى مَنْ سِوَاهُ ".
ترجمہ
سیدنا ابان بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”حالتِ احرام میں موجود شخص نہ تو خود نکاح کرے اور نہ ہی اپنے لیے یا کسی دوسرے کے لیے نکاح کا پیغام (رشتہ) بھیجے۔“