المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يحرم مِنْ النساء باب: ان عورتوں کا بیان جن سے نکاح حرام ہے۔
حدیث نمبر: 1559
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا فِيهِ : " لَا جَلَبَ ، وَلَا جَنَبَ ، وَلَا وِرَاطَ ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَمَنْ أَجْبَا فَقَدْ أَرْبَا ".ترجمہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فرمان تحریر فرمایا جس میں یہ درج تھا کہ ”اسلام میں (زکوٰۃ کی وصولی کے لیے) جانوروں کو ہنکا کر دور لے جانا (جلب) اور تحصیل دار کا آبادی سے دور قیام کر کے مالکانِ مویشی کو وہاں آنے پر مجبور کرنا (جنب) جائز نہیں، اور نہ ہی زکوٰۃ سے بچنے کے لیے جانوروں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنا (وراط) درست ہے، اور اسلام میں وٹہ سٹہ کا نکاح (شغار) ممنوع ہے، نیز ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے غلے کو (اس کی پختگی اور صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے) بیچا تو یقیناً اس نے سود کا معاملہ کیا۔“