المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يحرم مِنْ النساء باب: ان عورتوں کا بیان جن سے نکاح حرام ہے۔
حدیث نمبر: 1555
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا ابْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ ، قَالَتْ : وَفِي الْآخِرِ : " وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ ".ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستے میں ایک تحریر پائی گئی، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی جس کے آخری حصے میں یہ مرقوم تھا کہ: ”کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کی موجودگی میں (بطورِ سوکن) نکاح نہ کیا جائے، اور کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر تین راتوں کی مسافت کا سفر نہ کرے۔“