المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا يرث القاتل باب: قاتل کے وارث نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1553
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَنَسَخْتُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ثَنَا وُهَيْبٌ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : عَدِيٌّ ، كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لَهُ جِوَارٌ ، فَرَمَى إِحْدَاهُمَا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا . فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِتَبُوكَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَأْنِ الْمَرْأَةِ الْمَقْتُولَةِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْقِلُهَا ، وَلَا تَرِثُهَا " .ترجمہ
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے اور ان کی دو بیویوں کے مابین کچھ ناخوشگوار معاملہ ہوا تو انہوں نے ان میں سے ایک کو پتھر دے مارا جس سے وہ جاں بحق ہوگئی، چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ مقامِ تبوک میں تشریف فرما تھے، انہوں نے آپ ﷺ سے اس مقتولہ عورت کے شرعی حکم کے متعلق دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس کی دیت (خون بہا) ادا کرو گے، لیکن تم اس کے ترکے کے وارث نہیں بنو گے۔“