کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: «لا إله إلا الله» کہنے والے کی نمازِ جنازہ کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ : إِذَا أَقَرَّ بِالْإِسْلَامِ ثُمَّ مَاتَ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ صُلِّيَ عَلَيْهِ .
885 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ نَحْوَهُ .
885 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ نَحْوَهُ .
ترجمہ
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی شخص اسلام کا اقرار کر لے، پھر فوت ہو جائے اور اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔“
امام ابو عوانہ رحمہ اللہ نے بھی مغیرہ کے واسطے سے اسی کے مانند روایت کیا ہے۔
امام ابو عوانہ رحمہ اللہ نے بھی مغیرہ کے واسطے سے اسی کے مانند روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ غُلَامٌ شَابٌّ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرِضَ فَعَادَهُ ، فَقَالَ : أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ كَمَا يَقُولُ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : فَقَبِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ .
886 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهِ .
886 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ”محمد ﷺ جو فرما رہے ہیں، وہی کہہ دو۔“ چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی اسے ابوبکر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی اسے ابوبکر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ قَالَ : إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْدِيَّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَائِذٍ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا وُضِعَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَا تُصَلِّ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، حَرَسَ مَعَنَا لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَحَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ ، وَقَالَ : أَصْحَابُكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا عُمَرُ إِنَّكَ لَا تُسْأَلُ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ ، وَلَكِنْ تُسْأَلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ .
ترجمہ
ابن عائذ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے جنازے میں تشریف لے گئے۔ جب جنازہ رکھ دیا گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائیے، کیونکہ یہ ایک بدکردار شخص تھا۔“ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے اسلام کا کوئی عمل کرتے دیکھا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: ”جی ہاں، اللہ کے رسول! اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات ہمارے ساتھ پہرہ دیا تھا۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، اس پر مٹی ڈالی اور فرمایا: ”تیرے ساتھی سمجھتے ہیں کہ تو دوزخی ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! تم سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، البتہ تم لوگوں سے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَا تُصَلِّ عَلَيْهِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ .
ترجمہ
ابو عطیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا تو بعض لوگوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائیے۔“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
وضاحت: اس سے مراد سابقہ روایت میں مذکور وہ واقعہ ہے جس میں اس شخص کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینے کا ذکر ہے۔
وضاحت: اس سے مراد سابقہ روایت میں مذکور وہ واقعہ ہے جس میں اس شخص کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینے کا ذکر ہے۔