المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زَكَاةِ النَّعَمِ باب: چوپایوں کی زکوٰۃ کا بیان۔
( 36 ) حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي أَوَّلِ أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .(36) سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے متعلق احادیث کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي فَرَائِضِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ : وَفِي الْغَنَمِ إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ ، حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا جَاوَزَتْ عِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ ، حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَإِذَا جَاوَزَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ ، فَإِذَا جَاوَزَتْ ثَلَاثَمِائَةٍ فَكَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ تُعَدُّ فِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ : شَاةٌ . وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ فَابْنُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ ، ثُمَّ فِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ ، فَإِنَّ فِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا عَادَتْ تُعَدْ إِلَى أَوَّلِ فَرِيضَةٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٍ ، حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ .
قَالَ حَمَّادٌ : أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ .حماد بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”یہ وہ مکتوب ہے جو رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے اونٹوں اور بکریوں کے فرائضِ زکوٰۃ کے بارے میں تحریر فرمایا تھا: بکریاں جب چالیس ہو جائیں تو ایک سو بیس تک ان میں ایک بکری واجب ہے۔ جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو دو سو تک دو بکریاں، اور جب دو سو سے بڑھ جائیں تو تین سو تک تین بکریاں واجب ہیں۔ جب تین سو سے زیادہ ہو جائیں تو ہر ایک سو بکریوں میں ایک بکری واجب ہوگی۔ اونٹوں میں پچیس پر ایک بنتِ مخاض، یعنی ایک سال مکمل کرکے دوسرے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو ایک ابنِ لبون، یعنی دو سال مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہونے والا نر اونٹ دیا جائے۔ جب اونٹ چھتیس ہو جائیں تو ایک بنتِ لبون، یعنی دو سال مکمل کرکے تیسرے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے۔ جب چھیالیس ہو جائیں تو ساٹھ تک ایک حقہ، یعنی تین سال مکمل کرکے چوتھے سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے۔ پھر پچھتر تک ایک جذعہ، یعنی چار سال مکمل کرکے پانچویں سال میں داخل ہونے والی اونٹنی واجب ہے۔ پھر نوے تک دو بنتِ لبون اور نوے سے بڑھ کر ایک سو بیس تک دو حقے واجب ہیں۔ پھر جب تعداد اس سے بڑھ جائے تو زائد اونٹوں کو اونٹوں کے پہلے فریضے، یعنی ایک بکری، سے شمار کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں، اور جب اونٹ بہت زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہوگا۔“
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ مکتوب قیس بن سعد نے ابوبکر بن عمرو بن حزم کے واسطے سے بیان کیا ہے۔