المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: «لا إله إلا الله» کہنے والے کی نمازِ جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 886
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ غُلَامٌ شَابٌّ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرِضَ فَعَادَهُ ، فَقَالَ : أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ كَمَا يَقُولُ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : فَقَبِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ .
886 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهِ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ”محمد ﷺ جو فرما رہے ہیں، وہی کہہ دو۔“ چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی اسے ابوبکر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔