❮
❯
حدیث نمبر: 886
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ غُلَامٌ شَابٌّ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرِضَ فَعَادَهُ ، فَقَالَ : أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ كَمَا يَقُولُ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : فَقَبِلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ .
886 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نوجوان یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ”محمد ﷺ جو فرما رہے ہیں، وہی کہہ دو۔“ چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی اسے ابوبکر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 886
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث صحيح. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1290، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3095، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12381، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 4، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 7858، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3617، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1907»