❮
❯
حدیث نمبر: 887
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ قَالَ : إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْدِيَّ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَائِذٍ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا وُضِعَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَا تُصَلِّ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، حَرَسَ مَعَنَا لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَحَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ ، وَقَالَ : أَصْحَابُكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا عُمَرُ إِنَّكَ لَا تُسْأَلُ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ ، وَلَكِنْ تُسْأَلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ .
ترجمہ

ابن عائذ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری شخص کے جنازے میں تشریف لے گئے۔ جب جنازہ رکھ دیا گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائیے، کیونکہ یہ ایک بدکردار شخص تھا۔“ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے اسلام کا کوئی عمل کرتے دیکھا ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: ”جی ہاں، اللہ کے رسول! اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات ہمارے ساتھ پہرہ دیا تھا۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، اس پر مٹی ڈالی اور فرمایا: ”تیرے ساتھی سمجھتے ہیں کہ تو دوزخی ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! تم سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، البتہ تم لوگوں سے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الجنائز / حدیث: 887
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف؛ فهو مرسل. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 213، 887»