قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ قَبْلَ الرَّكْعَةِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا أَقْنُتُ بِكُمْ : لِتَدْعُوا رَبَّكُمْ وَتَسْأَلُوهُ حَاجَتَكُمْ .
يَحْيَى ضَعِيفٌ جِدًّا .
يَحْيَى ضَعِيفٌ جِدًّا .
ترجمہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نمازِ فجر میں (دوسری) رکعت سے پہلے دعاِ قنوت پڑھا کرتے تھے، اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں قنوت (کے لیے) اس لیے کھڑا کرتا ہوں تاکہ تم اپنے رب سے التجا کرو اور اس سے اپنی حاجات کا سوال کرو۔“
اس روایت کا راوی یحییٰ بن ہاشم نہایت ضعیف ہے۔
اس روایت کا راوی یحییٰ بن ہاشم نہایت ضعیف ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ قَبْلَ الرَّكْعَةِ ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ أُمِّي مِنَ الْقَابِلَةِ ، فَأَخْبَرَتْنِي مِثْلَ ذَلِكَ .
481 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأَنْظُرَ كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ؟ : فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ بَعَثْتُ أُمِّي أُمَّ عَبْدٍ ، فَقُلْتُ : بِيتِي مَعَ نِسَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرِي : كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ؟ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ .
أَبَانُ مَتْرُوكٌ .
481 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأَنْظُرَ كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ؟ : فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ بَعَثْتُ أُمِّي أُمَّ عَبْدٍ ، فَقُلْتُ : بِيتِي مَعَ نِسَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرِي : كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ؟ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ .
أَبَانُ مَتْرُوكٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ہاں رات گزاری تو آپ ﷺ نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی، پھر اگلی رات میں نے اپنی والدہ کو بھیجا تو انہوں نے بھی مجھے آکر ایسی ہی خبر دی۔ احمد بن منیع کی روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نبی کریم ﷺ کے پاس اس غرض سے رات کو رکا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ آپ ﷺ اپنی وتر کی نماز میں قنوت کس طرح فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے رکوع سے قبل قنوت پڑھی، پھر میں نے اپنی والدہ امِ عبد کو بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے پاس رات بسر کریں اور مشاہدہ کریں کہ آپ ﷺ وتر میں قنوت کیسے پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے بھی مجھے آکر یہی بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے رکوع کرنے سے پہلے قنوت پڑھی تھی۔“
اس روایت کا راوی ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔
اس روایت کا راوی ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اكْفِنِي رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعَضَلًا وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ .
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز میں دعائے قنوت فرمائی تو یہ التجا کی: «اللَّهُمَّ اكْفِنِي رِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعَضَلًا وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ» ”اے اللہ! تو رعل، ذکوان، عضل اور عُصیہ (نامی قبائل) کے شر و فتنے کے خلاف میری طرف سے کافی ہو جا، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔“
اس حدیث کو احمد بن منیع نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو احمد بن منیع نے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمْ يَقْنُتِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا شَهْرًا : لَمْ يَقْنُتْ قَبْلَهُ ، وَلَا بَعْدَهُ .
أَبُو حَمْزَةَ : هُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ : ضَعِيفٌ .
483 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرٌ : هُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : قَنَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ ، وَذَكْوَانَ ، فَلَمَّا ظَهَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ .
أَبُو حَمْزَةَ : هُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ : ضَعِيفٌ .
483 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرٌ : هُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : قَنَتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ ، وَذَكْوَانَ ، فَلَمَّا ظَهَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ نے صرف ایک ماہ کے عرصہ تک دعائے قنوت فرمائی، آپ ﷺ نے اس مخصوص مدت سے نہ تو پہلے کبھی قنوت کی اور نہ ہی اس کے بعد کبھی اسے اپنا معمول بنایا۔“
اس کی سند میں موجود راوی ابوحمزہ دراصل میمون الاعور ہے جو کہ علمِ حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اسی سند سے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ: ”نبی کریم ﷺ نے ایک ماہ تک مسلسل قنوت فرمائی جس میں آپ ﷺ عُصیہ اور ذکوان نامی قبائل کے خلاف بددعا فرماتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان پر غلبہ و نصرت عطا فرما دی تو آپ ﷺ نے قنوت کرنا چھوڑ دیا۔“
اس کی سند میں موجود راوی ابوحمزہ دراصل میمون الاعور ہے جو کہ علمِ حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اسی سند سے یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ: ”نبی کریم ﷺ نے ایک ماہ تک مسلسل قنوت فرمائی جس میں آپ ﷺ عُصیہ اور ذکوان نامی قبائل کے خلاف بددعا فرماتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان پر غلبہ و نصرت عطا فرما دی تو آپ ﷺ نے قنوت کرنا چھوڑ دیا۔“
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِأَبِي مِجْلَزٍ الْقُنُوتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا إِلَى بَنِي فُلَانٍ ، فَقَالَ : انْظُرْ ، فَإِنْ كَانُوا أَذِنُوا فَجَاوِزْهُمْ إِلَى بَنِي فُلَانٍ ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ يَسْأَلُهُمْ ، قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ ، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ - يَعْنِي سِلَاحَهُ - ثُمَّ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْعَنُهُ ، فَصَرَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِكَ : اقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللهِ : مَا رَأَيْنَا مِنْ أَحَدٍ ! ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فُلَانًا قُتِلَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ السَّلَامَ ، فَقَامَ بِهِمْ شَهْرًا فِي آخِرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقُولُ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِبَنِي عُصَيَّةَ : عَصَوْا رَبَّهُمْ ، وَعَلَيْكَ بِبَنِي ذَكْوَانَ ، قَالَ : ثُمَّ تَرَكَهُ ، لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ .
مُرْسَلٌ .
مُرْسَلٌ .
ترجمہ
ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے صبح کی نماز (فجر) میں دعائے قنوت کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو فلاں قبیلے کی طرف روانہ کیا اور اسے یہ ہدایت فرمائی: ”تم جا کر دیکھنا، اگر وہ لوگ اذان دے چکے ہوں (یعنی اسلام قبول کر چکے ہوں) تو انہیں چھوڑ کر آگے فلاں قبیلے کی طرف بڑھ جانا۔“ جب وہ قاصد ان کے پاس پہنچ کر ان سے دریافت کرنے لگا، تو اسی دوران ایک شخص اندر گیا اور اپنی زرہ یعنی ہتھیار پہن کر باہر نکلا اور رسول اللہ ﷺ کے قاصد پر نیزے سے وار کر کے انہیں زمین پر پٹخ دیا (اور شہید کر دیا)۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے قاصد نے التجا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِكَ : اقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ» ”اے اللہ! میں تیرے رسول کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، میری طرف سے انہیں میرا سلام پہنچا دے۔“ (ادھر مدینہ میں) نبی کریم ﷺ نے اچانک فرمایا: ”وعلیکم السلام (اور تم پر بھی سلامتی ہو)۔“ وہاں موجود لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو یہاں کسی کو نہیں دیکھا (تو آپ کسے جواب دے رہے ہیں)؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فلاں شخص کو شہید کر دیا گیا ہے اور اس نے مجھے سلام بھیجا ہے۔“ اس واقعے کے بعد نبی کریم ﷺ ایک ماہ تک نمازِ فجر کے آخری حصے میں ان کے خلاف بددعا کے لیے کھڑے رہے، آپ ﷺ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِبَنِي عُصَيَّةَ : عَصَوْا رَبَّهُمْ ، وَعَلَيْكَ بِبَنِي ذَكْوَانَ» ”اے اللہ! تو بنو عصیہ کو اپنی پکڑ میں لے کہ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے، اور بنو ذکوان کو بھی اپنی گرفت میں لے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اسے ترک فرما دیا، اور اس واقعے کے سوا آپ ﷺ نے کبھی قنوت نہیں پڑھی۔
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ : الْكِبَرُ يَمْنَعُكُمَا مِنَ الْقُنُوتِ ؟ قَالَا : لَمْ نَأْخُذْهُ مِنْ أَصْحَابِنَا .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
ابو مجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ ”کیا کبرِ سنی (بڑھاپا) آپ دونوں کو دعائے قنوت پڑھنے سے روکتا ہے؟“ تو ان دونوں جلیل القدر صحابہ نے جواب دیا: ”ہم نے یہ عمل اپنے رفقاء و اسلاف (صحابہ کرام) سے اخذ نہیں کیا۔“
یہ روایت صحیح اور موقوف ہے۔
یہ روایت صحیح اور موقوف ہے۔