المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقُنُوتِ باب: قنوت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ قَبْلَ الرَّكْعَةِ ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ أُمِّي مِنَ الْقَابِلَةِ ، فَأَخْبَرَتْنِي مِثْلَ ذَلِكَ .
481 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأَنْظُرَ كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ؟ : فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ ، ثُمَّ بَعَثْتُ أُمِّي أُمَّ عَبْدٍ ، فَقُلْتُ : بِيتِي مَعَ نِسَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْظُرِي : كَيْفَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ ؟ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ .
أَبَانُ مَتْرُوكٌ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ہاں رات گزاری تو آپ ﷺ نے رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی، پھر اگلی رات میں نے اپنی والدہ کو بھیجا تو انہوں نے بھی مجھے آکر ایسی ہی خبر دی۔ احمد بن منیع کی روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نبی کریم ﷺ کے پاس اس غرض سے رات کو رکا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ آپ ﷺ اپنی وتر کی نماز میں قنوت کس طرح فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے رکوع سے قبل قنوت پڑھی، پھر میں نے اپنی والدہ امِ عبد کو بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے پاس رات بسر کریں اور مشاہدہ کریں کہ آپ ﷺ وتر میں قنوت کیسے پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے بھی مجھے آکر یہی بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے رکوع کرنے سے پہلے قنوت پڑھی تھی۔“
اس روایت کا راوی ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔