المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الْيُسْرَى باب: دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ : هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ : أُمِرْنَا أَنْ نُعَجِّلَ إِفْطَارَنَا ، وَأَنْ نُؤَخِّرَ سُحُورَنَا ، وَأَنْ نَضَعَ أَيْمَانَنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ .
486 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : أُمِرْنَا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ أَنْ نُؤَخِّرَ سُحُورَنَا ، وَنُمْسِكَ بِأَيْدِينَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي الصَّلَاةِ .
486 \ 3 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، ثَنَا طَلْحَةُ بِهِ .
غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ .
وَقَدْ أَتَى فِيهِ أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ التُّجِيبِيُّ : " بِآبِدٍ " ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَدِّي ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَذْكُرُهُ ، فَأَبْطَلَ فِي قَوْلِهِ : عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَإِنَّمَا هُوَ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَحْمَدُ بْنُ طَاهِرٍ ، كَذَّبَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَأَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ طَاهِرٍ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم (سورج غروب ہوتے ہی) افطار جلدی کریں، سحری (وقت ختم ہونے سے ذرا پہلے) تاخیر سے کھائیں اور نماز میں اپنے دائیں ہاتھوں کو اپنے بائیں ہاتھوں پر رکھیں۔“ عبد بن حمید کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”ہم انبیاء کی جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی سحری میں تاخیر کریں اور نماز میں اپنے (دائیں) ہاتھوں سے بائیں ہاتھوں کو تھامے رکھیں۔“
یہ روایت غریب ہے جسے طلحہ بن عمرو المکی نے اکیلے بیان کیا ہے اور اس کے راوی میں ضعف پایا جاتا ہے۔ نیز احمد بن طاہر بن حرملہ التجیبی نے اس سند میں ایک منکر بات نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے میرے دادا نے بیان کیا، انہوں نے ابن وہب سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسے ذکر کیا، پس ان کا عمرو بن حارث کہنا باطل اور غلط ہے کیونکہ درحقیقت یہ طلحہ بن عمرو ہی ہیں، نیز احمد بن طاہر کو امام دارقطنی اور دیگر محدثین نے جھوٹا قرار دیا ہے، اس روایت کو امام طبرانی نے ’المعجم الاوسط‘ میں احمد بن طاہر ہی کے واسطے سے نقل کیا ہے۔