❮
❯
حدیث نمبر: 484
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، قَالَ : ذُكِرَ لِأَبِي مِجْلَزٍ الْقُنُوتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا إِلَى بَنِي فُلَانٍ ، فَقَالَ : انْظُرْ ، فَإِنْ كَانُوا أَذِنُوا فَجَاوِزْهُمْ إِلَى بَنِي فُلَانٍ ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ يَسْأَلُهُمْ ، قَالَ : فَدَخَلَ رَجُلٌ ، فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ - يَعْنِي سِلَاحَهُ - ثُمَّ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْعَنُهُ ، فَصَرَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِكَ : اقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللهِ : مَا رَأَيْنَا مِنْ أَحَدٍ ! ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فُلَانًا قُتِلَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ السَّلَامَ ، فَقَامَ بِهِمْ شَهْرًا فِي آخِرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقُولُ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِبَنِي عُصَيَّةَ : عَصَوْا رَبَّهُمْ ، وَعَلَيْكَ بِبَنِي ذَكْوَانَ ، قَالَ : ثُمَّ تَرَكَهُ ، لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ .
مُرْسَلٌ .
ترجمہ

ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے صبح کی نماز (فجر) میں دعائے قنوت کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو فلاں قبیلے کی طرف روانہ کیا اور اسے یہ ہدایت فرمائی: ”تم جا کر دیکھنا، اگر وہ لوگ اذان دے چکے ہوں (یعنی اسلام قبول کر چکے ہوں) تو انہیں چھوڑ کر آگے فلاں قبیلے کی طرف بڑھ جانا۔“ جب وہ قاصد ان کے پاس پہنچ کر ان سے دریافت کرنے لگا، تو اسی دوران ایک شخص اندر گیا اور اپنی زرہ یعنی ہتھیار پہن کر باہر نکلا اور رسول اللہ ﷺ کے قاصد پر نیزے سے وار کر کے انہیں زمین پر پٹخ دیا (اور شہید کر دیا)۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے قاصد نے التجا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِكَ : اقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ» ”اے اللہ! میں تیرے رسول کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، میری طرف سے انہیں میرا سلام پہنچا دے۔“ (ادھر مدینہ میں) نبی کریم ﷺ نے اچانک فرمایا: ”وعلیکم السلام (اور تم پر بھی سلامتی ہو)۔“ وہاں موجود لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو یہاں کسی کو نہیں دیکھا (تو آپ کسے جواب دے رہے ہیں)؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فلاں شخص کو شہید کر دیا گیا ہے اور اس نے مجھے سلام بھیجا ہے۔“ اس واقعے کے بعد نبی کریم ﷺ ایک ماہ تک نمازِ فجر کے آخری حصے میں ان کے خلاف بددعا کے لیے کھڑے رہے، آپ ﷺ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِبَنِي عُصَيَّةَ : عَصَوْا رَبَّهُمْ ، وَعَلَيْكَ بِبَنِي ذَكْوَانَ» ”اے اللہ! تو بنو عصیہ کو اپنی پکڑ میں لے کہ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے، اور بنو ذکوان کو بھی اپنی گرفت میں لے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اسے ترک فرما دیا، اور اس واقعے کے سوا آپ ﷺ نے کبھی قنوت نہیں پڑھی۔
یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 484
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مُرْسَلٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»