کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ورع اور زہد کی فضیلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ اسْتَوْجَبَ الثَّوَابَ ، وَاسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ : خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ ، وَحِلْمٌ يَرُدُّ بِهِ جَهْلَ الْجَاهِلِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں جس شخص میں ہوں گئی وہ ثواب کو لازم کر لے گا اور ایمان کو مکمل کر لے گا ، ایسے ( عمدہ ) اخلاق جن کے ذریعے وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ، ایسی پرہیزگاری ، جو اسے اللہ تعالی کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچا کے رکھے اور ایسی بردباری ، جس کے ذریعے وہ جاہل شخص کی جہالت کو پرے کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَصَايَا كُلُّهَا ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ مِمَّا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَهُ أَنْ قَالَ : يَا مُوسَى ، لَمْ يَتَصَنَّعِ الْمُتَصَنِّعُونَ لِي بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَتَقَرَّبِ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ، وَلَا تَعَبَّدَنِي الْعَابِدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خِيفَتِي . فَقَالَ مُوسَى : يَا إِلَهَ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا ، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ ؟ وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ ؟ قَالَ : يَا مُوسَى ، أَمَّا الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّهُمْ أَبَحْتُهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ حَيْثُ يَشَاءُونَ . وَأَمَّا الْوَرَعَةُ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَانِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا نَقَشْتُهُ وَفَتَّشْتُهُ عَمَّا كَانَ فِي يَدَيْهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْوَرِعِينَ ، فَإِنِّي أَسَتَهِيبُهُمْ ، وَأُجِلُّهُمْ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خِيفَتِي فَلَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات کے ذریعے خطاب کیا ، جو تین دن میں ہوا ، یہ سارا کلام ، وصایا ( یعنی تلقین اور ہدایات ) پر مشتمل تھا ، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بعد میں انسانوں کا کلام سنا تو وہ انہیں ناگوار گزرا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام آ چکا تھا ، پروردگار نے انہیں خطاب کے دوران جو فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی ، اس نے فرمایا : ” اے موسیٰ ! میری خاطر عمل کرنے والوں نے دنیا سے بے رغبتی جیسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے ( ایسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ) جو میری اُن پر حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچنے کی مانند ہو اور عبادت گزاروں نے میری عبادت ( ایسے کسی طریقے سے نہیں کی ہو گی ) جو میرے خوف سے رونے کی مانند ہو ۔ “ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے ساری مخلوق کے پروردگار ! اے روز جزاء کے مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے اُن کے لیے کیا تیار کیا ہے اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ” اے موسیٰ ! جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے لوگوں کا تعلق ہے تو میں نے ان کے لئے اپنی جنت کو مباح قرار دے دیا ہے وہ جہاں چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے تو قیامت کے دن جو بھی بندہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، میں اس سے تحقیق و تفتیش کروں گا ، اس چیز کے بارے میں ، جو اس کے ہاتھوں میں تھا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور انہیں کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے رفیق اعلیٰ ہو گا ، جس میں کوئی اُن کا شراکت دار نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا أَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا وَلَا أَعْجَبَهُ فِيهَا إِلَّا وَرَعَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ : أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں سے اور جو کچھ دنیا میں موجود ہے اس میں سے کوئی بھی چیز پسند نہیں تھی ، البتہ پرہیزگاری کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اور امام طبرانی کے استاد أحمد بن قاسم سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اور امام طبرانی کے استاد أحمد بن قاسم سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، ارْضَ بِمَا قُسِمَ لَكَ تَكُنْ غَنِيًّا ، وَكُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبُدَ النَّاسِ ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا ، وَأَحْسِنْ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا ، وَإِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ ; فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ ، وَالْقَهْقَهَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَالتَّبَسُّمُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " وَالْقَهْقَهَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! جو تمہارے حصے میں آیا ہے تم اس سے راضی رہو ، تم خوشحال بن جاؤ گے ، تم پرہیزگار بن جاؤ ، تم سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے ، تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، تم مومن بن جاؤ گے ، تم اپنے پڑوسی ( یا ساتھی ) کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تم مسلمان بن جاؤ گے اور تم زیادہ ہنسنے سے بچو ، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور قہقہہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور مسکرانا ، اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ مقل نہیں کئے ہیں : ” قہقہہ ( یعنی اُس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ مقل نہیں کئے ہیں : ” قہقہہ ( یعنی اُس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔