کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو پاکیزہ حلال چیز کھاتا ہے
حدیث نمبر: 18121
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ ، أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا ، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَبْرَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے جو پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے ، اور جب وہ گرتی ہے تو کچھ توڑتی نہیں ہے اور خراب نہیں کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوسبرہ کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (199/2)»
حدیث نمبر: 18122
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّحْلَةِ لَا تَأْكُلُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَلَا تَضَعُ إِلَّا طَيِّبًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : " أَطِبْ مَطْعَمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ " . فِي بَابِ فِيمَنْ أَكَلَ حَلَالًا أَوْ حَرَامًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے جو صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز نکالتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا : ” تم اپنا کھانا پاکیزہ رکھو ا تم مستجاب الدعوات بن جاؤ گے ۔ “ یہ حدیث ” باب : اس شخص کا بیان جو حلال یا حرام کھائے “ میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18122
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (204/19)»
حدیث نمبر: 18123
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا : حِفْظُ أَمَانَةٍ ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ ، وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ ، وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار چیزیں ہیں ، جب وہ تم میں ہوں گی تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، خواہ دنیا میں سے جو بھی تمہیں نہ ملے ، امانت کی حفاظت ، سچ بولنا ، اچھے اخلاق اور کھانے میں احتیاط ( یعنی صرف حلال کھانا ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6652)»