مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوَرَعِ وَالزُّهْدِ . باب: ورع اور زہد کی فضیلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، ارْضَ بِمَا قُسِمَ لَكَ تَكُنْ غَنِيًّا ، وَكُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبُدَ النَّاسِ ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا ، وَأَحْسِنْ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا ، وَإِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ ; فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ ، وَالْقَهْقَهَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَالتَّبَسُّمُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " وَالْقَهْقَهَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! جو تمہارے حصے میں آیا ہے تم اس سے راضی رہو ، تم خوشحال بن جاؤ گے ، تم پرہیزگار بن جاؤ ، تم سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے ، تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، تم مومن بن جاؤ گے ، تم اپنے پڑوسی ( یا ساتھی ) کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تم مسلمان بن جاؤ گے اور تم زیادہ ہنسنے سے بچو ، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور قہقہہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور مسکرانا ، اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ مقل نہیں کئے ہیں : ” قہقہہ ( یعنی اُس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔