حدیث نمبر: 18125
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، وَصَايَا كُلُّهَا ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ مِمَّا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَهُ أَنْ قَالَ : يَا مُوسَى ، لَمْ يَتَصَنَّعِ الْمُتَصَنِّعُونَ لِي بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَتَقَرَّبِ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ، وَلَا تَعَبَّدَنِي الْعَابِدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خِيفَتِي . فَقَالَ مُوسَى : يَا إِلَهَ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا ، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ ؟ وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ ؟ قَالَ : يَا مُوسَى ، أَمَّا الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّهُمْ أَبَحْتُهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ حَيْثُ يَشَاءُونَ . وَأَمَّا الْوَرَعَةُ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَانِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا نَقَشْتُهُ وَفَتَّشْتُهُ عَمَّا كَانَ فِي يَدَيْهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْوَرِعِينَ ، فَإِنِّي أَسَتَهِيبُهُمْ ، وَأُجِلُّهُمْ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خِيفَتِي فَلَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات کے ذریعے خطاب کیا ، جو تین دن میں ہوا ، یہ سارا کلام ، وصایا ( یعنی تلقین اور ہدایات ) پر مشتمل تھا ، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بعد میں انسانوں کا کلام سنا تو وہ انہیں ناگوار گزرا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام آ چکا تھا ، پروردگار نے انہیں خطاب کے دوران جو فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی ، اس نے فرمایا : ” اے موسیٰ ! میری خاطر عمل کرنے والوں نے دنیا سے بے رغبتی جیسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے ( ایسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ) جو میری اُن پر حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچنے کی مانند ہو اور عبادت گزاروں نے میری عبادت ( ایسے کسی طریقے سے نہیں کی ہو گی ) جو میرے خوف سے رونے کی مانند ہو ۔ “ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے ساری مخلوق کے پروردگار ! اے روز جزاء کے مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے اُن کے لیے کیا تیار کیا ہے اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ” اے موسیٰ ! جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے لوگوں کا تعلق ہے تو میں نے ان کے لئے اپنی جنت کو مباح قرار دے دیا ہے وہ جہاں چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے تو قیامت کے دن جو بھی بندہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، میں اس سے تحقیق و تفتیش کروں گا ، اس چیز کے بارے میں ، جو اس کے ہاتھوں میں تھا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور انہیں کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے رفیق اعلیٰ ہو گا ، جس میں کوئی اُن کا شراکت دار نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12650)»