کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شکر کرنے اور صبر کرنے کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ سَخْبَرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ ، وَظَلَمَ فَاسْتَغْفَرَ ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ " . ثُمَّ سَكَتَ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَهُ ؟ قَالَ : " أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ ، وَهُوَ مُهْتَدُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو دیا جائے ، تو وہ شکر کرے اور اگر آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو وہ صبر کرے ، اگر وہ ظلم کرے تو مغفرت طلب کرے اور اگر اس پر ظلم کیا جائے تو وہ معاف کر دے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جن کے لئے امن ہو گا اور یہ لوگ ہدایت یافتہ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18048
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6613)»
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الصَّبْرُ وَالِاحْتِسَابُ هُنَّ عِتْقُ الرِّقَابَ ، وَيُدْخِلُ اللَّهُ صَاحِبَهُنَّ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبر کرنا اور ثواب کی امید رکھنا ، یہ گردنیں آزاد کرنا ہے اور یہ کام کرنے والوں کو اللہ تعالی کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم قرشی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18049
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3186)»
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعٌ لَا يُصَبْنَ إِلَّا بِعُجْبٍ : الصَّبْرُ ، وَهُوَ أَوَّلُ الْعِبَادَةِ ، وَالتَّوَاضُعُ ، وَذِكْرُ اللَّهِ ، وَقِلَّةُ الشَّيْءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْعَوَّامُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ لَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار چیزیں ایسی ہیں ، جو صرف حیرت انگیز ہونے کے طور پر ملتی ہیں ، صبر ، یہ عبادت کا آغاز ہے ، تواضع ، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور چیز کا کم ہونا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عوام بن جویریہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کے حوالے سے ” مستدرک “ میں روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18050
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (741)»