مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّكْرِ وَالصَّبْرِ . باب: شکر کرنے اور صبر کرنے کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ سَخْبَرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ ، وَظَلَمَ فَاسْتَغْفَرَ ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ " . ثُمَّ سَكَتَ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَهُ ؟ قَالَ : " أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ ، وَهُوَ مُهْتَدُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو دیا جائے ، تو وہ شکر کرے اور اگر آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو وہ صبر کرے ، اگر وہ ظلم کرے تو مغفرت طلب کرے اور اگر اس پر ظلم کیا جائے تو وہ معاف کر دے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جن کے لئے امن ہو گا اور یہ لوگ ہدایت یافتہ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ متروک ہے ۔