کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہو ، تو وہ اسے بتا دے
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ : أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى إِلَى أَبِي أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ " . وَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : ابوسالم جیشانی ، ابوامیہ کے پاس ان کے گھر آئے اور یہ بات بیان کی : میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی شخص اپنے ساتھی سے محبت کرتا ہو ، تو وہ اس کے پاس اس کے گھر آئے اور اسے یہ بتا دے : کہ وہ اللہ تعالی کی خاطر اس نے محبت کرتا ہے ۔ “ ( پھر ابوسالم جیشانی نے کہا: ) میں اس لیے آپ کے گھر آیا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (145/5)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي أُحِبُّ أَبَا ذَرٍّ ، فَقَالَ : " أَعْلَمْتَهُ بِذَلِكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَأَعْلِمْهُ " . فَلَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ : إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، قَالَ : أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لِمَنْ ذَكَرَهُ أَجْرٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے بتاؤ ! راوی کہتے ہیں : میری ملاقات سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : تم جس کی خاطر مجھ سے محبت کرتے ہو ، وہ ذات تم سے بھی محبت کرے ، راوی کہتے ہیں : میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس کا ذکر کرے گا ( یعنی جو شخص دوسرے کو یہ بات بتائے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں ، تو ) اُسے اجر ملے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18034
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ هَذَا . قَالَ : " هَلْ أَعْلَمْتَهُ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَأَعْلِمْ ذَاكَ أَخَاكَ " . فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ وَقُلْتُ : وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، وَقَالَ هُوَ : وَإِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ،وَقُلْتُ : لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أُعْلِمَكَ لَمْ أَفْعَلْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْأَزْرَقِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَحَسَّانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے سلام کیا اور پھر وہ چلا گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے بتایا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کو یہ بات بتاؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اس شخص کے پاس آیا ، میں نے اسے سلام کیا پھر میں نے اس کا کندھا پکڑا اور یہ کہا: اللہ کی قسم ! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، تو ان صاحب نے کہا: میں بھی اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم نہ دیا ہوتا کہ میں آپ کو اس بارے میں بتا دوں ، تو میں نے ایسا نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ازرق بن علی اور حسان بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18035
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13361)»
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ رَجُلٌ وَرَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّهُ لِلَّهِ . قَالَ : " أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " قُمْ فَأَعْلِمْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص گزرا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ( یعنی اس سے ، جو ابھی پاس سے گزرا ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھو اور ( جا کر ) اُسے یہ بتاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (138/22)»
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَبَدِ الْمَوَدَّةَ لِمَنْ وَادَدْتَ ; فَإِنَّهَا هِيَ أَثْبَتُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس سے تم محبت کرتے ہو اس کے سامنے محبت کا اظہار کرو ، کیونکہ اس طرح محبت مضبوط ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف