کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی ، اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے
حدیث نمبر: 18019
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بندہ اُس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (336/3)»
حدیث نمبر: 18020
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی اُس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3596)»
حدیث نمبر: 18021
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ هُنَّ حَقٌّ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهَ عَبْدٌ فَيُوَلِّيهِ غَيْرُهُ ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا حُشِرَ مَعَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں ایسی ہیں جو حق ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، اسے اس کی مانند نہیں بنایا ، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو ، اور جب بندہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے غیر کے سپرد نہیں کرتا ، اور جب آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، تو اس کا حشر ان کے ساتھ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن محمود خیاط کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (874)»
حدیث نمبر: 18022
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْخٌ كَبِيرٌ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " . فَقَالَ : لَا . وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ : فَوَثَبَ الشَّيْخُ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعَوْهُ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . وَصَبَّ عَلَى بَوْلِهِ مَاءً . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . فَقَطْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَمْعَانُ الْمَالِكِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھا ، اس نے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے نماز روزے کی شکل میں اس کے لئے کوئی زیادہ تیاری نہیں کی ہے ، البتہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو تم اُس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص اُٹھ کر گیا اور مسجد ( کے کونے میں ) پیشاب کرنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے کرنے دو ! ہو سکتا ہے یہ اہل جنت میں سے ہو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر اس کے پیشاب پر پانی بہا دیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : “” “” صحیح “” “” میں اس روایت میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سمعان مالکی ہے اور وہ مجہول ہے ، امام ابوزرعہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3595)»
حدیث نمبر: 18023
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَذَا الْحَالِفُ عَلَى مَا حَلَفَ ؟ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ ; فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، وَعَلَيْكَ مَا اكْتَسَبْتَ ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے اس نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے ، اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حلف اٹھانے والا شخص کون ہے ؟ جو ایک بات پر حلف اٹھا رہا ہے ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم جاؤ ! تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ، جو تم نے ( گناہ ) کمایا ہے اس کا وبال تم پر ہو گا اور ( جس نیکی کے حوالے سے ) تم نے ثواب کی امید رکھی تھی اس کا اجر تمہیں ملے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18023
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3593)»
حدیث نمبر: 18024
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " . فَقَالَ : حُبُّ اللَّهِ [ عَزَّ وَجَلَّ ] وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّادٍ ، أَوِ ابْنُ عُبَادَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَحَدِيثُ بَقِيَّةَ رِجَالُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پھر تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عباد ، یا شاید ابن عبادہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال کی حدیث حسن ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (107) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3282)»
حدیث نمبر: 18025
وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " . فَقَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرًا ، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسریحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے بڑی تیاری نہیں کی ، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم انصاری ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 18026
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ - يَعْنِي الْخَطْمِيَّ - قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى صَلَّى ، ثُمَّ دَعَا فَوَجَدَهُ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ : " لِمَ سَأَلْتَ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " . قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ مَتَى هِيَ . قَالَ : " مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ " . قَالَ : مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ ، وَلَا صِيَامٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : " فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ادا کر لی تو آپ نے اسے بلایا آپ نے اسے انصار کے گھرانوں میں سے ایک گھرانے میں پایا ، آپ نے اس سے فرمایا : تم نے قیامت کے بارے میں کیوں سوال کیا ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ چاہتا تھا کہ مجھے یہ پتا ہو کہ وہ کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے نماز ، روزے یا صدقے کی شکل میں زیادہ تیاری تو نہیں کی ، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم اس کے ساتھ ہو گے ، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18027
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ : هَاجَرَ أَبِي صَفْوَانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَمَدَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : إِنِّي أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْمُرَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن صفوان بن قدامہ بیان کرتے ہیں : میرے والد سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، انہوں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا ، سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اُس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن میمون مرائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (133) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7400)»
حدیث نمبر: 18028
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَيْدِ بْنِ الْحُرَيْشِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زید بن حریش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (59) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (154/17)»
حدیث نمبر: 18029
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اُس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (74/20)»
حدیث نمبر: 18030
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لِامْرِئٍ مَا احْتَسَبَ ، وَعَلَيْهِ مَا اكْتَسَبَ ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، وَمَنْ مَاتَ عَلَى ذُنَابَيِ الطَّرِيقِ فَهُوَ مِنْ أَهْلِهِ " . قُلْتُ : قَالَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ : ذُنَابَيِ طَرِيقٍ يَعْنِي : عَلَى قَصْدِ الطَّرِيقِ ، وَهُوَ أَصْلُ الذَّنْبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی کو اس چیز کا ثواب ملے گا ، جس کے ثواب کی اس نے امید رکھی ہو گی ، اور اس کا وبال اس پر ہو گا جو ( گناہ ) اس نے کمایا ہو گا اور آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہو گا اور جو شخص سیدھے راستے پر مرے گا ، وہ اس کے اہل میں سے ایک شمار ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” النہایہ “ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے : ” ذنابی الطریق “ سے مراد درمیانہ ( یعنی سیدھا ) راستہ ہے اور وہ ” ذنب “ کی اصل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن بکر سکسکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7650)»
حدیث نمبر: 18031
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ قَوْمًا حَشَرَهُ اللَّهُ فِي زُمْرَتِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقر صافہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، اللہ تعالی اُس کا حشر اس ( قوم ) کے گروہ میں کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2519)»
حدیث نمبر: 18032
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّنَا لِلدُّنْيَا ; فَإِنَّ صَاحِبَ الدُّنْيَا يُحِبُّهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، وَمَنْ أَحَبَّنَا لِلَّهِ كُنَّا نَحْنُ وَهُوَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كَهَاتَيْنِ - وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص دنیا کے لیے ہم سے محبت رکھے گا ، تو دنیا سے متعلق فرد کے ساتھ تو نیک اور گناہ گار ( ہر قسم کے لوگ ) محبت رکھتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے خاطر ہم سے محبت رکھے گا ، تو قیامت کے دن ہم اور وہ ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، انہوں نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں پائے جانے والے ضعف کے باوجود ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2880)»