مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَنْ أَحَبَّ أَحَدًا فَلْيُعْلِمْهُ . باب: جب کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہو ، تو وہ اسے بتا دے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ هَذَا . قَالَ : " هَلْ أَعْلَمْتَهُ ؟ " . قُلْتُ : لَا . قَالَ : " فَأَعْلِمْ ذَاكَ أَخَاكَ " . فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ وَقُلْتُ : وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ، وَقَالَ هُوَ : وَإِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ ،وَقُلْتُ : لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أُعْلِمَكَ لَمْ أَفْعَلْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْأَزْرَقِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَحَسَّانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے سلام کیا اور پھر وہ چلا گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے بتایا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کو یہ بات بتاؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اس شخص کے پاس آیا ، میں نے اسے سلام کیا پھر میں نے اس کا کندھا پکڑا اور یہ کہا: اللہ کی قسم ! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، تو ان صاحب نے کہا: میں بھی اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم نہ دیا ہوتا کہ میں آپ کو اس بارے میں بتا دوں ، تو میں نے ایسا نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ازرق بن علی اور حسان بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔