مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِكْمَةِ وَالْمُرُوءَةِ . باب: حکمت اور مروت کے بارے میں جو منقول ہے
عَنِ الْحَارِثِ : أَنَّ عَلِيًّا سَأَلَ الْحَسَنَ عَنْ [ أَشْيَاءَ مِنْ ] أَمْرِ الْمُرُوءَةِ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ مَا السَّدَادُ ؟ قَالَ : يَا أَبَتِ السَّدَادُ رَفْعُ الْمُنْكَرِ بِالْمَعْرُوفِ . قَالَ : فَمَا الشَّرَفُ ؟ قَالَ : اصْطِنَاعُ الْعَشِيرَةِ ، وَحَمْلُ الْجَرِيرَةِ ، وَمُوَافَقَةُ الْإِخْوَانِ ، وَحِفْظُ الْجِيرَانِ . قَالَ : فَمَا الْمُرُوءَةُ ؟ قَالَ : الْعَفَافُ وَإِصْلَاحُ الْمَالِ . قَالَ : فَمَا الدِّقَّةُ ؟ قَالَ : النَّظَرُ فِي الْيَسِيرِ ، وَمَنْعُ الْحَقِيرِ . قَالَ : فَمَا اللُّؤْمُ ؟ قَالَ : إِحْرَازُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ ، وَبَذْلُهُ عُرْسَهُ . قَالَ : فَمَا السَّمَاحَةُ ؟ قَالَ : الْبَذْلُ مِنَ الْعَسِيرِ وَالْيَسِيرِ . قَالَ : فَمَا الشُّحُّ ؟ قَالَ : أَنْ تَرَى مَا أَنْفَقْتَهُ تَلَفًا . قَالَ : فَمَا الْإِخَاءُ ؟ قَالَ : الْمُوَاسَاةُ [ فِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ ] . قَالَ : فَمَا الْجُبْنُ ؟ قَالَ : الْجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ ، وَالنُّكُولُ عَنِ الْعَدُوِّ . قَالَ : فَمَا الْغَنِيمَةُ ؟ قَالَ : الرَّغْبَةُ فِي التَّقْوَى ، وَالزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا ، هِيَ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ . قَالَ : فَمَا الْحِلْمُ ؟ قَالَ : كَظْمُ الْغَيْظِ ، وَمِلْكُ النَّفْسِ . قَالَ : فَمَا الْغِنَى ؟ قَالَ : رِضَا النَّفْسِ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا وَإِنْ قَلَّ ، وَإِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ . قَالَ : فَمَا الْفَقْرُ ؟ قَالَ : شَرَهُ النَّفْسِ فِي كُلِّ شَيْءٍ . قَالَ : فَمَا الْمَنَعَةُ ؟ قَالَ : شِدَّةُ الْبَأْسِ ، وَمُنَازَعَةُ أَشَدِّ النَّاسِ . قَالَ : فَمَا الذُّلُّ ؟ قَالَ : الْفَزَعُ عِنْدَ الْمَصْدُوقَةِ . قَالَ : فَمَا الْعِيُّ ؟ قَالَ : الْعَبَثُ ، وَكَثْرَةُ الْبُزَاقِ عِنْدَ الْمُخَاطَبَةِ . قَالَ : فَمَا الْجُرْأَةُ ؟ قَالَ : لِقَاءُ الْأَقْرَانِ . قَالَ : فَمَا الْكُلْفَةُ ؟ قَالَ : كَلَامُكَ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ . قَالَ : فَمَا الْمَجْدُ ؟ قَالَ : أَنْ تُعْطِيَ فِي الْغُرْمِ ، وَتَعْفُوَ عَنِ الْجُرْمِ . قَالَ : فَمَا الْعَقْلُ ؟ قَالَ : حِفْظُ الْقَلْبِ كُلَّمَا اسْتَوْدَعْتَهُ . قَالَ : فَمَا الْخُرْقُ ؟ قَالَ : مُفَارَقَتُكَ إِمَامَكَ ، وَرِفْعَتُكَ عَلَيْهِ كَلَامَكَ . قَالَ : فَمَا حُسْنُ الثَّنَاءِ ؟ قَالَ : إِتْيَانُ الْجَمِيلِ ، وَتَرْكُ الْقَبِيحِ . قَالَ : فَمَا الْحَزْمُ ؟ قَالَ : طُولُ الْأَنَاةِ ، وَالرِّفْقُ بِالْوُلَاةِ . قَالَ : فَمَا السَّفَهُ ؟ قَالَ : [ اتِّبَاعُ ] الدَّنَاءَةِ وَمُصَاحَبَةُ الْغُوَاةِ . قَالَ : فَمَا الْغَفْلَةُ ؟ قَالَ : تَرْكُكَ الْمَسْجِدَ ، وَطَاعَةُ الْمُفْسِدِ . قَالَ : فَمَا الْحِرْمَانُ ؟ قَالَ : تَرْكُكَ حَظَّكَ وَقَدْ عُرِضَ عَلَيْكَ . قَالَ : فَمَا الْأَحْمَقُ ؟ قَالَ : الْأَحْمَقُ فِي مَالِهِ ، الْمُتَهَاوِنُ فِي عِرْضِهِ . ¤ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا فَقْرَ أَشَدَّ مِنَ الْجَهْلِ ، وَلَا مَالَ أَعَوْدَ مِنَ الْعَقْلِ ، وَلَا وَحْشَةَ أَوْحَشَ مِنَ الْعُجْبِ ، وَلَا اسْتِظْهَارَ أَوْفَقَ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ ، وَلَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ ، وَلَا عِبَادَةَ كَالتَّفْكِيرِ ، وَلَا إِيمَانَ كَالْحَيَاءِ وَالصَّبْرِ ، وَآفَةُ الْحَدِيثِ الْكَذِبُ ، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ ، وَآفَةُ الْحِلْمِ السَّفَهُ ، وَآفَةُ الْعِبَادَةِ الْفَتْرَةُ ، وَآفَةُ الظَّرْفِ الصَّلَفُ ، وَآفَةُ الشَّجَاعَةِ الْبَغْيُ ، وَآفَةُ السَّمَاحَةِ الْمَنُّ ، وَآفَةُ الْجَمَالِ الْخُيَلَاءُ ، وَآفَةُ الْحَسَبِ الْفَخْرُ " . ¤ يَا بُنَيَّ ، لَا تَسْتَخِفَّنَّ بِرَجُلٍ تَرَاهُ أَبَدًا ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ أَبَاكَ ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَكَ فَهُوَ أَخُوكَ ، وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَ مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ ابْنُكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحِنْطِيُّ ، وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤حارث بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ، جن کا تعلق مروت سے ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! ” سداد “ ( یعنی مستقیم رہنا اور میانہ روی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اے ابا جان ! ” سداد “ یہ ہے کہ معروف کے ذریعے منکر کو پرے کیا جائے ۔ انہوں نے دریافت کیا : شرف کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : خاندان کے ساتھ بھلائی کرنا ( یعنی کسی دوسرے پر لازم ہونے والے ) جرمانے کی ادائیگی اپنے ذمہ لینا ، بھائیوں کی موافقت کرنا اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : مروت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : پاکدامنی اور مال کی اصلاح ۔ انہوں نے دریافت کیا : دقت ( یعنی باریک بینی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تھوڑی چیز کے بارے میں غور و فکر کرنا اور حقیر چیز نہ دینا ۔ انہوں نے دریافت کیا : ” لؤم “ ( یعنی کمینگی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا اپنے آپ کو بچانا ۔ انہوں نے دریافت کیا : ” سماحت “ ( یعنی مہربانی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تنگدستی اور تھوڑا ہونے کے باوجود خرچ کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : کنجوسی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ آپ نے جو خرچ کیا ہے ، اس کے بارے میں یہ سمجھیں کہ وہ ضائع ہو گیا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بھائی چارہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تنگدستی اور خوشحالی ( یعنی ہر حال ) میں اچھا سلوک کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بزدلی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : دوست کے خلاف جرأت کرنا اور دشمن ( کے مقابلے ) سے منہ پھیر لینا ۔ انہوں نے دریافت کیا : غنیمت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تقویٰ میں رغبت رکھنا ، دنیا سے بے نیازی اختیار کرنا ، یہ ٹھنڈی غنیمت ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : بردباری کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : غصے کو پی جانا اور اپنے اوپر ق ابورکھنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : خوشحالی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالی نے جو نصیب میں دیا ہے ، اس پر نفس کا راضی رہنا خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ اصل خوشحالی ، نفس کی خوشحالی ہوتی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : غربت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کسی بھی چیز کے حوالے سے نفس کا سیر نہ ہونا ۔ انہوں نے دریافت کیا : ” منعۃ “ ( یعنی غلبہ اور قوت اور روکنے کی صلاحیت ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : طاقتور ہونا اور مضبوط شخص کے ساتھ مقابلہ کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : ذلت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سچی بات کے وقت گھبرا جانا ۔ انہوں نے دریافت کیا : ” عی “ ہونا ( یعنی کلام کرنے سے عاجز ہونا ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : داڑھی کے ساتھ فضول کھیلنا اور گفتگو کے دوران اکثر تھوکنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : جرأت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اپنے ہم پلہ لوگوں سے ملنا ( یا لڑائی کے دوران اپنے ہم پلہ افراد کا سامنا کرنا ) ۔ انہوں نے دریافت کیا : کلفت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا لایعنی گفتگو کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بزرگی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ تم کسی کے ذمہ ادائیگی میں ( امداد کے طور پر ) دے دو ، اور کسی کے جرم سے درگزر کرو ۔ انہوں نے دریافت کیا : عقل کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : دل کا ہر اس چیز کو محفوظ رکھنا جو اس میں رکھی گئی ہو ۔ انہوں نے دریافت کیا : ” خرق “ ( یعنی کسی چیز کو پھاڑ دینا ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا حکمران سے علیحدگی اختیار کرنا اور اس کے مقابلے میں اپنی بات کو بلند کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اچھی تعریف کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اچھا کام کرنا اور برے کام کو ترک کر دینا ۔ انہوں نے دریافت کیا : حزم ( یعنی احتیاط ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : زیادہ تر الگ تھلگ رہنا اور حکمرانوں کے ساتھ نرمی کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بیوقوفی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : گھٹیا لوگوں کی پیروی کرنا اور گمراہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : غفلت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا مسجد کو ترک کر دینا اور فساد پیدا کرنے والے کی اطاعت کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا محرومی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا اپنے حصے کو ترک کر دینا ، جو اس کے سامنے پیش کیا گیا ہو ۔ انہوں نے دریافت کیا : احمق کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جو اپنے مال کے بارے میں حماقت کا مظاہرہ کرے اور اپنی عزت کو ہلکا کرے ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جہالت سے زیادہ سخت فقر ( یعنی غربت ) اور کوئی نہیں ہے اور عقل سے زیادہ بہترین مال اور کوئی نہیں ہے ، اور خودپسندی سے زیادہ وحشت کا شکار کرنے والی چیز اور کوئی نہیں ہے ، اور مشورہ لینے سے زیادہ مناسب طریقہ اور کوئی نہیں ہے ، تدبیر کی مانند کوئی عقلمندی نہیں ہے ، اچھے اخلاق کی مانند کوئی حسب نہیں ہے ، احتیاط ( یا بچاؤ ) کی مانند کوئی پرہیزگاری نہیں ہے ، غور و فکر کی مانند کوئی عبادت نہیں ہے ، حیاء اور صبر کی مانند کوئی ایمان ( یعنی عمل ) نہیں ہے اور بات چیت کی آفت ، جھوٹ بولنا ہے اور علم کی آفت بھول جانا ہے ، بردباری کی آفت ، بیوقوفی ہے ، عبادت کی آفت ، وقفہ کرنا ہے ، ظرف کی آفت ، تکبر ہے ، بہادری کی آفت سرکشی ہے ، مہربانی کی آفت احسان جتانا ہے ، خوبصورتی کی آفت تکبر ہے اور حسب کی آفت فخر ہے ۔ “ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم جب بھی جس بھی شخص کو دیکھو ، اسے کبھی بھی کمتر نہیں سمجھنا ، اگر وہ تم سے بہتر ہو ، تو تم یہ گمان کرنا کہ وہ تمہارے باپ کی جگہ ہے ، اگر وہ تمہارے جیسا ہو ، تو تم یہ گمان کرنا کہ وہ تمہارا بھائی ہے ، اور اگر وہ تم سے چھوٹا ہو ، تو تم یہ گمان کرنا کہ وہ تمہارے بیٹے کی جگہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابورجاء حنطی ہے ، اس کا نام محمد بن عبداللہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔