عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ) »
” اے اللہ ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو نفع نہ دے ، اور ایسے دل سے جو ڈرے نہیں ، اور ایسے نفس سے ، جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے ( یعنی مستجاب نہ ہو ، ان سب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ) اے اللہ ! میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ) »
” اے اللہ ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو نفع نہ دے ، اور ایسے دل سے جو ڈرے نہیں ، اور ایسے نفس سے ، جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے ( یعنی مستجاب نہ ہو ، ان سب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ) اے اللہ ! میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقَسْوَةِ ، وَالْغَفْلَةِ ، وَالْعَيْلَةِ ، وَالذِّلَّةِ ، وَالْمَسْكَنَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفُسُوقِ ، وَالشِّقَاقِ ، وَالنِّفَاقِ ، وَالسُّمْعَةِ ، وَالرِّيَاءِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ ، وَالْبَكَمِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقَسْوَةِ ، وَالْغَفْلَةِ ، وَالْعَيْلَةِ ، وَالذِّلَّةِ ، وَالْمَسْكَنَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفُسُوقِ ، وَالشِّقَاقِ ، وَالنِّفَاقِ ، وَالسُّمْعَةِ ، وَالرِّيَاءِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ ، وَالْبَكَمِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ»
” اے اللہ ! میں عاجز ہونے اور سست ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں دل کی سختی ، غفلت ، تنگدستی ، غریبی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں فسق ، اختلاف ، منافقت ، شہرت اور ریاکاری سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں گونگے ، بہرے ہو جانے ، پاگل پن ، جذام اور بری بیماریوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقَسْوَةِ ، وَالْغَفْلَةِ ، وَالْعَيْلَةِ ، وَالذِّلَّةِ ، وَالْمَسْكَنَةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفُسُوقِ ، وَالشِّقَاقِ ، وَالنِّفَاقِ ، وَالسُّمْعَةِ ، وَالرِّيَاءِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ ، وَالْبَكَمِ ، وَالْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ»
” اے اللہ ! میں عاجز ہونے اور سست ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں دل کی سختی ، غفلت ، تنگدستی ، غریبی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں فسق ، اختلاف ، منافقت ، شہرت اور ریاکاری سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں گونگے ، بہرے ہو جانے ، پاگل پن ، جذام اور بری بیماریوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَرِيرٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ»
” اے اللہ ! میں ایسی دعا سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو سنی نہ جائے ، اور ایسے دل سے ، جو ڈرتا نہ ہو ، اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو ( تیری پناہ مانگتا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
” اے اللہ ! میں ایسی دعا سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، جو سنی نہ جائے ، اور ایسے دل سے ، جو ڈرتا نہ ہو ، اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو ( تیری پناہ مانگتا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ ، وَمِنْ بَوَارِ الْأَيِّمِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ زَكَرِيَّا الصَّرِيمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ ، وَمِنْ بَوَارِ الْأَيِّمِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ»
” اے اللہ ! میں قرض کے غلبے اور دشمن کے غلبے اور بیوہ یا مطلقہ عورتوں ) کی شادی نہ ہونے ، اور دجال کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم صغیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن زکریا صریمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ ، وَمِنْ بَوَارِ الْأَيِّمِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ»
” اے اللہ ! میں قرض کے غلبے اور دشمن کے غلبے اور بیوہ یا مطلقہ عورتوں ) کی شادی نہ ہونے ، اور دجال کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم صغیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن زکریا صریمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے : ( یعنی یہ دعا کیا کرتے تھے : )
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ»
” اے اللہ ! میں کسلمندی اور بڑھاپے اور سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اُس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ»
” اے اللہ ! میں کسلمندی اور بڑھاپے اور سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اُس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ ، وَبِاسْمِكَ الْكَرِيمِ ، مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے : «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ ، وَبِاسْمِكَ الْكَرِيمِ ، مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ»
” میں تیری کریم ذات اور تیرے کریم اسم کی پناہ مانگتا ہوں ، کفر اور فقر سے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
” میں تیری کریم ذات اور تیرے کریم اسم کی پناہ مانگتا ہوں ، کفر اور فقر سے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالْعَيْلَةِ ، وَمِنْ أَنْ تَظْلِمُوا أَوْ تُظْلَمُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُبَادَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم غربت اور تنگدستی سے اللہ کی پناہ مانگو ! اور اس بات سے بھی ( اللہ کی پناہ مانگو ) کہ تم ظلم کرو یا تم پر ظلم کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یحیی بن اسحاق بن یحیی بن عبادہ نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یحیی بن اسحاق بن یحیی بن عبادہ نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غِنًى يُطْغِينِي ، وَمِنْ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَمِنْ هَوًى يُرْدِينِي ، وَمِنْ عَمَلٍ يُخْزِينِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَوْنٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ حَدِيثُ أَنَسٍ مَرْفُوعًا أَتَمَّ مِنْ هَذَا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چار چیزوں سے پناہ مانگتے ہوئے یہ پڑھا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غِنًى يُطْغِينِي ، وَمِنْ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَمِنْ هَوًى يُرْدِينِي ، وَمِنْ عَمَلٍ يُخْزِينِي»
” اے اللہ ! میں ایسی خوشحالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مجھے سرکش بنا دے اور ایسی غربت سے جو مجھے بھلا دے ، اور ایسی خواہش نفس سے جو مجھے پلٹا دے اور ایسے عمل سے جو مجھے رُسوا کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور عبدالرحمن مسعودی اگرچہ ثقہ ہیں ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ۔
اس سے پہلے نمازوں کے بعد دعا کے بارے میں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ ” مرفوع “ روایت گزر چکی ہے جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غِنًى يُطْغِينِي ، وَمِنْ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَمِنْ هَوًى يُرْدِينِي ، وَمِنْ عَمَلٍ يُخْزِينِي»
” اے اللہ ! میں ایسی خوشحالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مجھے سرکش بنا دے اور ایسی غربت سے جو مجھے بھلا دے ، اور ایسی خواہش نفس سے جو مجھے پلٹا دے اور ایسے عمل سے جو مجھے رُسوا کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور عبدالرحمن مسعودی اگرچہ ثقہ ہیں ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ۔
اس سے پہلے نمازوں کے بعد دعا کے بارے میں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ ” مرفوع “ روایت گزر چکی ہے جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السُّوءِ ، وَمِنْ لَيْلَةِ السُّوءِ ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوءِ ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوءِ ، وَمِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ ثَابِتٍ الْبَزَّارِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السُّوءِ ، وَمِنْ لَيْلَةِ السُّوءِ ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوءِ ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوءِ ، وَمِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ»
” اے اللہ ! میں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برے ساتھی سے اور قیام کی جگہ میں برے ہمسائے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف بشر بن ثابت بزار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السُّوءِ ، وَمِنْ لَيْلَةِ السُّوءِ ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوءِ ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوءِ ، وَمِنْ جَارِ السُّوءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ»
” اے اللہ ! میں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برے ساتھی سے اور قیام کی جگہ میں برے ہمسائے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف بشر بن ثابت بزار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ : أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَكُمْ أَنْ تَتَعَوَّذُوا مِنْ ثَلَاثٍ : مِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا مَطْمَعَ ، وَمِنْ طَمَعٍ يُرَدُّ إِلَى طَبْعٍ ، وَمِنْ طَمَعٍ إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ” اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم تین چیزوں سے پناہ مانگو ! ایسی طمع سے ، جہاں طمع نہ ہو سکتی ہو ، ایسی طمع سے ، جو طبع کی طرف لوٹا دے ، اور ایسی طمع سے جو غیر مطمع ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور ان میں سے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اور ان میں سے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَمَعٍ ، وَمِنْ طَمَعٍ إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ ، وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا مَطْمَعَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایسی طمع ، جو دوسری طمع کی طرف لے جائے ، اور ایسی طمع سے ، جو غیر مطمع ہو ، اور ایسی طمع سے ، جہاں طمع نہ ہو سکتی ہو ( ان سے ) اللہ کی پناہ مانگو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام بزار نے اس کی مانند روایات نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام بزار نے اس کی مانند روایات نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَمَعٍ ، وَمِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الطَّبَّاعِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسی طمع ، جو دوسری طمع کی طرف لے جائے ، اور ایسی طمع سے ، جو غیر مطمع کی طرف لے جائے ( اُن سے ) اللہ کی پناہ مانگو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید بن طباع ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید بن طباع ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔