مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ . باب: کس چیز سے پناہ مانگی جائے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ ، وَمِنْ بَوَارِ الْأَيِّمِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ زَكَرِيَّا الصَّرِيمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ ، وَمِنْ بَوَارِ الْأَيِّمِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ»
” اے اللہ ! میں قرض کے غلبے اور دشمن کے غلبے اور بیوہ یا مطلقہ عورتوں ) کی شادی نہ ہونے ، اور دجال کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم صغیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن زکریا صریمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔