مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ . باب: کس چیز سے پناہ مانگی جائے ؟
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غِنًى يُطْغِينِي ، وَمِنْ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَمِنْ هَوًى يُرْدِينِي ، وَمِنْ عَمَلٍ يُخْزِينِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَوْنٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَإِنْ كَانَ ثِقَةً ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ حَدِيثُ أَنَسٍ مَرْفُوعًا أَتَمَّ مِنْ هَذَا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چار چیزوں سے پناہ مانگتے ہوئے یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غِنًى يُطْغِينِي ، وَمِنْ فَقْرٍ يُنْسِينِي ، وَمِنْ هَوًى يُرْدِينِي ، وَمِنْ عَمَلٍ يُخْزِينِي»
” اے اللہ ! میں ایسی خوشحالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مجھے سرکش بنا دے اور ایسی غربت سے جو مجھے بھلا دے ، اور ایسی خواہش نفس سے جو مجھے پلٹا دے اور ایسے عمل سے جو مجھے رُسوا کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عون نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور عبدالرحمن مسعودی اگرچہ ثقہ ہیں ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ۔
اس سے پہلے نمازوں کے بعد دعا کے بارے میں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ ” مرفوع “ روایت گزر چکی ہے جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔