کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: صحابہ کرام کی ایک جماعت اور دیگر لوگوں کے بارے میں جو بات منقول ہےاُن کے اسماء ، ان کے سن وفات ، اُن کے نسب کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
- وَقَالَ : مَالِكُ بْنُ أَحْمَرَ الْجُذَامِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا مالک بن احمر جذامی رضی اللہ عنہ ۔
- وَقَالَ : مُسْلِمُ بْنُ صَفِيَّةَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا مسلم بن صفیہ رضی اللہ عنہ ۔
- وَقَالَ : مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ ، يُكَنَّى أَبَا عَلِيٍّ ، وَهُوَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ خِرَاقِ بْنِ لَامِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ ثَوْرِ بْنِ هَدْمَةَ بْنِ لَاطِمِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُدِّ بْنِ طَابِخَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ أُدٍّ هُوَ مُزَيْنَةُ [ نُسِبَ إِلَى أُمِّهِ مُزَيْنَةَ بِنْتِ كَلْبِ بْنِ وَبْرَةَ ] . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ ان کی کنیت ابوعلی ہے ، یہ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ بن یسار بن عبدالله بن معمر بن خراق بن لامی بن کعب بن عبد بن ثور بن ہدمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو بن اد بن طابخہ ہیں ، اور عمرو بن اُد ، وہ مزینہ ہیں ، جن کی نسبت ان کی والدہ مزینہ بنت كلب بن وبرہ کی طرف کی جاتی ہے ۔
- وَقَالَ نَافِعٌ غَيْرُ مَنْسُوبٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا نافع رضی اللہ عنہ ، انہوں نے ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ۔
- وَقَالَ نَمِرُ بْنُ خَرَشَةَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا نمر بن خرشہ رضی اللہ عنہ ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَرَشِيُّ ، وَيَزِيدُ بْنُ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَيَاسِرٌ : أَبُو عَمَّارٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا یزید بن نعیم رضی اللہ عنہ ، سیدنا یزید بن خالد خرشی رضی اللہ عنہ ، سیدنا یزید بن حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ ، سیدنا یزید بن سنان رضی اللہ عنہ اور سیدنا یاسر رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے والد ہیں ۔
وَعَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس وقت میں دس سال کا تھا ۔
یہ روایت طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : كَانَ يُسَيْرُ بْنُ عَمْرٍو عَرِّيفًا فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ امام طبرانی نے یہ بات نقل کی ہے : سیدنا یسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ حجاج کے زمانے میں ” عریف “ ( یعنی سرکاری عہدے ) پر فائز تھے ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : يُسَيْرُ بْنُ عَمْرٍو السَّكُونِيُّ مُخَضْرَمٌ ، سَكَنَ الْكُوفَةَ ، وَمَاتَ بِهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا یسیر بن عمرو سکونی رضی اللہ عنہ ” مخضرم “ ہیں ، انہوں نے کوفہ میں رہائش اختیار کی تھی اور ان کا انتقال وہیں ہوا ۔
- وَقَالَ : أَبُو إِيَاسٍ لَمْ يُخَرَّجْ [ وَأَبُو صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيُّ لَمْ يَخْرُجْ ] . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوایاس رضی اللہ عنہ ، انہوں نے ان کے حوالے سے کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ، سیدنا صعصعہ انصاری رضی اللہ عنہ ، انہوں نے ان کے حوالے سے بھی کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔