مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ اكْتِحَالِهِ بِرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكِفَايَتِهِ الرَّمَدَ ، وَالْحَرَّ ، وَالْبَرْدَ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں نبی اکرم ﷺ کا لعاب سرمے کے طور پر لگنا اور پھر اس کا آشوب چشم یا گرمی یا سردی کے حوالے سے کفایت کر جانا
حدیث نمبر: 14706
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : مَا رَمَدْتُ وَلَا صَدَّعْتُ مُنْذُ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهِي ، وَتَفَلَ فِي عَيْنِي ، يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ أَعْطَانِي الرَّايَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى ، وَحَدِيثُهَا مُسْتَقِيمٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا کیا اس وقت جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، اس کے بعد مجھے کبھی آشوب چشم کی یا سر درد کی شکایت نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مستقیم ہے ۔