مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ اكْتِحَالِهِ بِرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكِفَايَتِهِ الرَّمَدَ ، وَالْحَرَّ ، وَالْبَرْدَ . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں نبی اکرم ﷺ کا لعاب سرمے کے طور پر لگنا اور پھر اس کا آشوب چشم یا گرمی یا سردی کے حوالے سے کفایت کر جانا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْحَرِّ الشَّدِيدِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الشِّتَاءِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الصَّيْفِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءِ مَشْرَبِهِ ، ثُمَّ مَسَحَ الْعَرَقَ عَنْ جَبْهَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى ،بَيْتِهِ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتَاهُ ، أَمَا رَأَيْتَ مَا صَنَعَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا فِي الشِّتَاءِ عَلَيْهِ ثِيَابُ الصَّيْفِ ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الصَّيْفِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ ؟ فَقَالَ أَبُو لَيْلَى : مَا فَطِنْتُ ، فَأَخَذَ بِيَدِ ابْنِهِ فَأَتَى عَلِيًّا ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي صَنَعَ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَنِي وَأَنَا أَرْمَدُ فَبَزَقَ فِي عَيْنِي ، ثُمَّ قَالَ : " افْتَحْ عَيْنَيْكَ " . فَفَتَحْتُهُمَا فَمَا اشْتَكَيْتُهُمَا حَتَّى السَّاعَةَ ، وَدَعَا لِي فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ " . فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا حَتَّى يَوْمِي هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : ایک شدید گرمی کے دن سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت انہوں نے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ایک مرتبہ سردی کے موسم میں وہ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے گرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، پھر ایک مرتبہ وہ اپنے بالاخانے سے پانی لے کے آئے ، پھر انہوں نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا ، پھر وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ، میں نے اپنے والد سے کہا: اے ابا جان کیا آپ نے دیکھا جو امیر المؤمنین نے کیا ہے ؟ وہ ہمارے پاس سردی میں تشریف لائے تھے ، تو انہوں نے گرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اور وہ ہمارے پاس گرمی میں تشریف لائے تھے ، تو انہوں نے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، تو سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک نوٹ کیا ہے ، پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے کا ہاتھ پکڑا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کے طرز عمل کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا ۔ اس وقت مجھے آشوب چشم کی شکایت تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر آپ نے فرمایا : اپنی دونوں آنکھوں کو کھولو ، تو میں نے اپنی آنکھوں کو کھولا تو اس وقت سے لے کر آج تک مجھے آنکھوں میں کبھی شکایت نہیں ہوئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس سے گرمی اور سردی کو دور کر دے ! اس کے بعد آج کے دن تک مجھے کبھی گرمی یا سردی محسوس نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔