حدیث نمبر: 14708
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عِنْدَهُ : عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : لَقِينَا عَلِيًّا وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ فِي الشِّتَاءِ ، فَقُلْنَا : لَا تَغْتَرُّ بِأَرْضِنَا هَذِهِ فَإِنَّ أَرْضَنَا هَذِهِ مُقِرَّةٌ لَيْسَتْ مِثْلَ أَرْضِكَ . قَالَ : فَإِنِّي كُنْتُ مَقْرُورًا ، فَلَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى خَيْبَرَ قُلْتُ : إِنِّي أَرْمَدُ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا وَلَا رَمَدَتْ عَيْنَايَ . ¤
محمد محی الدین

ان کی نقل کردہ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : ہماری ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، ان کے جسم پر دو کپڑے تھے ، یہ سردی کے موسم کی بات ہے ، ہم نے کہا: جناب آپ ہمارے اس علاقے کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں ، کیونکہ ہمارا یہ علاقہ آپ کے علاقے کی طرح نہیں ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ایسا شخص تھا جسے سردی لگی ہوئی تھی ( یا سردی زیادہ لگتی تھی ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر بھیجا تھا ، تو میں نے عرض کی : مجھے آشوب چشم کی شکایت ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، اس کے بعد مجھے نہ کبھی گرمی محسوس ہوئی ، نہ سردی محسوس ہوئی اور نہ ہی کبھی آشوب چشم کی شکایت ہوئی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔