عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، تَعْرِفِينَ هَذِهِ ؟ " قَالَتْ : لَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ . قَالَ : " هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ ، تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . فَأَعْطَتْهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تم اسے جانتی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں اے اللہ کے نبی ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بنو فلاں کی گانے والی عورت ہے ، کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ یہ تمہیں گا کے سنائے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک طبق دیا تو اس خاتون نے انہیں گا کے سنایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ عِنْدَنَا جَارِيَةٌ تُغَنِّي فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَوَثَبَتْ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَسْمَعَ مِمَّا تَسْمَعُ - أَوْ مَا يَسْمَعُ مِنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهَا فَأَسْمَعَتْهُ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ الْغِنَاءُ فِي الْعُرْسِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے پاس ایک کنیز تھی جو گانا گا رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر داخل ہوئے ، تو وہ کنیز اسی حالت میں گانا گاتی رہی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو اس نے گانا ترک کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو انہوں نے دریافت کیا : آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا تو انہوں نے عرض کی : میں بھی وہ بات ضرور سنوں گا ، جو آپ سن رہے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کنیز ) کو حکم دیا تو اس نے انہیں بھی گانا سنایا ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، اس سے پہلے شادی کے موقع پر گانے کے بارے میں روایت گزر چکی ہے ۔