مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ غِنَاءِ النِّسَاءِ باب: خواتین کا گانا
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ عِنْدَنَا جَارِيَةٌ تُغَنِّي فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَوَثَبَتْ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَسْمَعَ مِمَّا تَسْمَعُ - أَوْ مَا يَسْمَعُ مِنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهَا فَأَسْمَعَتْهُ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ الْغِنَاءُ فِي الْعُرْسِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے پاس ایک کنیز تھی جو گانا گا رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر داخل ہوئے ، تو وہ کنیز اسی حالت میں گانا گاتی رہی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو اس نے گانا ترک کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو انہوں نے دریافت کیا : آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا تو انہوں نے عرض کی : میں بھی وہ بات ضرور سنوں گا ، جو آپ سن رہے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کنیز ) کو حکم دیا تو اس نے انہیں بھی گانا سنایا ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، اس سے پہلے شادی کے موقع پر گانے کے بارے میں روایت گزر چکی ہے ۔