حدیث نمبر: 13360
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ - أَوْ فَوْقِي - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا . فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَنَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي ، فَإِذَا أَنَا بِرِيحٍ وَأَصْوَاتٍ وَدُخَانٍ فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَيَاطِينُ يُحْرَقُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ ، لَا يَتَفَكَّرُونَ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ أَكَلَةِ الرِّبَا فَقَطْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو میں نے اپنے اوپر دیکھا ، تو وہاں کڑک تھی بجلی تھی اور بجلیاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے ، جن میں سانپ موجود تھے ، جو ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے لوگ ہیں ، جب میں اتر کر آسمان دنیا کی طرف آیا اور میں نے اپنے نیچے کی طرف دیکھا ، تو مجھے ہوا آوازیں اور دھواں نظر آیا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ شیاطین ہیں جنہیں بنو آدم کی آنکھوں میں جلا دیا جاتا ہے ، وہ لوگ کہ جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں ، اگر ایسا نہ ہو تو یہ لوگ حیران کن چیزیں دیکھیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس میں سے صرف سود کھانے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13361
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّمْسَ حِينَ غَرَبَتْ فَقَالَ : " فِي نَارِ اللَّهِ الْحَامِيَةِ لَوْلَا مَا يَزَعُهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، لَأَهْلَكَتْ بِمَا عَلَى الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو غروب ہونے کے وقت ملاحظہ کیا ، تو ارشاد فرمایا : ” اللہ کی ( بنائی ہوئی ) شعلے بھڑکاتی آگ ، اگر اللہ کے حکم کے تحت اُس پر رکاوٹ نہ ڈالی گئی ہوتی ، تو اس نے روئے زمین پر موجود چیزوں کو ہلاک کر دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13362
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وُكِّلَ بِالشَّمْسِ تِسْعَةُ أَمْلَاكٍ يَرْمُونَهَا بِالثَّلْجِ كُلَّ يَوْمٍ ، لَوْلَا ذَلِكَ مَا أَتَتْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَحْرَقَتْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورج پر نو فرشتے مقرر کیے گئے ہیں ، جو روزانہ اس پر برف ڈالتے ہیں ، اگر ایسا نہ ہو ، تو سورج جس چیز پر بھی آئے اسے جلا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13363
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : أَرَأَيْتَ الْأَرْضَ عَلَى مَا هِيَ ؟ فَقَالَ : " الْأَرْضُ عَلَى الْمَاءِ " . فَقِيلَ : الْمَاءُ عَلَى مَا هُوَ ؟ قَالَ : " عَلَى صَخْرَةٍ " . فَقِيلَ : الصَّخْرَةُ عَلَى مَا هِيَ ؟ قَالَ : " هِيَ عَلَى ظَهْرِ حُوتٍ يَلْتَقِي طَرَفَاهُ بِالْعَرْشِ " . قِيلَ : الْحُوتُ عَلَى مَا هُوَ ؟ " عَلَى كَاهِلِ مَلَكٍ قَدَمَاهُ الْهَوَاءُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ - يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ - وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ، عرض کی گئی : آپ کیا کہتے ہیں ، زمین کس چیز پر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمین پانی پر ہے ، عرض کی گئی : پانی کس چیز پر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ چٹان پر ہے ۔ عرض کی گئی : چٹان کسی چیز پر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک مچھلی کی پشت پر ہے ، جس کے دونوں کنارے عرش کے ساتھ ملتے ہیں ، عرض کی گئی : وہ مچھلی کس چیز پر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک فرشتے کے کندھے پر ہے ، جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن أحمد یعنی عبداللہ بن أحمد بن شبیب سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن أحمد یعنی عبداللہ بن أحمد بن شبیب سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13364
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كِثَفُ الْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، وَبَيْنَ الْأَرْضِ الْعُلْيَا وَالسَّمَاءِ الدُّنْيَا خَمْسُمِائَةِ عَامٍ [أَوْ كَثْفُهَا خَمْسُمَائَةِ عَامٍ ، وَكِثَفُ الثَّانِيَةِ مِثْلُ ذَلِكَ وَمَا بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَمَا بَيْنَ الْأَرْضِ الْعُلْيَا وَالسَّمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ وَكِثَفُ السَّمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ ] ، وَالسَّمَاءِ السَّابِعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِلَى الْعَرْشِ مَسِيرَةُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ كُلِّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا نَصْرٍ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ الْحَدِيدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت جتنی ہے ، اور زمین کے اوپر والے حصے اور آسمان دنیا کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے یا اس کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، اور دوسرے آسمان کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے ، ہر زمین کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے ، اوپر والی زمین اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی ہے ، اور ساتویں آسمان سے لے کر عرش کے درمیان تک اتنا فاصلہ ہے ، جتنا ان سب کے درمیان فاصلہ ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابونصر حمید بن ہلال نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ اس سے پہلے سورت حدید کی تفسیر سے متعلق باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابونصر حمید بن ہلال نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ اس سے پہلے سورت حدید کی تفسیر سے متعلق باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 13365
وَعَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : السَّمَاءُ الدُّنْيَا لَوْحٌ مَكْفُوفٌ ، وَالثَّانِيَةُ صَخْرَةٌ ، وَالثَّالِثَةُ حَدِيدٌ ، وَالرَّابِعَةُ نُحَاسٌ ، وَالْخَامِسَةُ فِضَّةٌ ، وَالسَّادِسَةُ ذَهَبٌ ، وَالسَّابِعَةُ يَاقُوتٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا ، مَوْقُوفًا عَلَى الرَّبِيعِ ، وَلَعَلَّهُ سَقَطَ مِنَ النُّسْخَةِ ، وَفِيهِ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آسمان دنیا ایک مکفوف لوح ہے ، دوسرا آسمان چٹان ہے ، تیسرا لوہا ہے ، چوتھا پیتل ہے ، پانچواں چاندی ہے ، چھٹا سونا ہے اور ساتواں یاقوت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور شاید یہ نسخے سے ساقط ہو گئی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر رازی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور شاید یہ نسخے سے ساقط ہو گئی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر رازی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13366
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ أَنَسٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ : عَنِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنُّجُومِ ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خُلِقْنَ ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ نُورِ الْعَرْشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن ابوبکر بن انس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : سورج چاند اور ستارے کہ انہیں کس سے پیدا کیا گیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ ” انہیں عرش کے نور سے پیدا کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معقل بن مالک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معقل بن مالک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13367
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَشَدُّ خَلْقِ رَبِّكَ عَشَرَةٌ : الْجِبَالُ ، وَالْحَدِيدُ يَنْحِتُ الْجِبَالَ ، وَالنَّارُ تَأْكُلُ الْحَدِيدَ ، وَالْمَاءُ يُطْفِئُ النَّارَ وَالسَّحَابُ الْمُسَخَّرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ يَحْمِلُ الْمَاءَ ، وَالرِّيحُ يَنْقُلُ السَّحَابَ ، وَالْإِنْسَانُ يَتَّقِي الرِّيحَ بِيَدِهِ وَيَذْهَبُ فِيهَا لِحَاجَتِهِ وَالسُّكْرُ يَغْلِبُ الْإِنْسَانَ ، وَالنَّوْمُ يَغْلِبُ السُّكْرَ ، وَالْهَمُّ يَمْنَعُ النَّوْمَ ، فَأَشَدُّ خَلْقِ رَبِّكَ الْهَمُّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تمہارے پروردگار کی مخلوق میں سب سے زیادہ سخت دس چیزیں ہیں ۔ پہاڑ ہے ، اور لوہا پہاڑ کو بھی چیر دیتا ہے ، اور آگ لوہے کو کھا جاتی ہے ، اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور آسمان اور زمین کے درمیان مسخر بادل پانی کو اٹھا لیتا ہے ، اور ہوا بادل کو بھی منتقل کر دیتی ہے ، اور انسان اپنے ہاتھ کے ذریعے ہوا سے بچ جاتا ہے ، اور ہوا کے دوران اپنے کام کے لئے چلا جاتا ہے ، اور نشہ انسان پر غالب آ جاتا ہے ، اور نیند نشے پر غالب آ جاتی ہے ، اور پریشانی نیند پر غالب آ جاتی ہے ، تو تمہارے پروردگار کی مخلوق میں سب سے زیادہ شدید چیز پریشانی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13368
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ - وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ - كَانَ فِي عِيرٍ لِخَدِيجَةَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مَعَهُ فِي تِلْكَ الْعِيرِ فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرَى فِيكَ خِصَالًا وَأَشْهَدُ أَنَّكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ تِهَامَةَ ، وَقَدْ آمَنْتُ بِكَ ، فَإِذَا سَمِعْتُ بِخُرُوجِكَ أَتَيْتُكَ . فَأَبْطَأَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَانَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَتَاهُ ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ : " مَرْحَبًا بِالْمُهَاجِرِ الْأَوَّلِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَنِي أَنْ أَكُونَ مِنْ أَوَّلِ مَنْ أَتَاكَ وَأَنَا مُؤْمِنٌ بِكَ ، غَيْرُ مُنْكِرٍ لِبَيْعَتِكَ وَلَا نَاكِثٍ لِعَهْدِكَ ، وَآمَنْتُ بِالْقُرْآنِ ، وَكَفَرْتُ بِالْوَثَنِ ، إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَتْنَا بَعْدَكَ سَنَوَاتٌ شِدَادٌ مُتَوَالِيَاتٌ ، تَرَكَتِ الْمُخَّ رُزَامًا ، وَالْمَطِيَّ هَامًا ، غَاضَتْ بِهَا الدَّرَّةُ ، وَنَبَعَتْ لَهَا النَّثْرَةُ ، وَعَادَتْ لَهَا السِّعَادُ مُنْخَرَمًا ، وَاجْتَاحَتْ جَمِيعَ السُّنَنِ [بِالْأَرْضِ] وَالْقَنَطَةُ وَالْعُصَاةُ مُسْتَخْلَفًا وَالْوَشِيجُ مُسْتَحْكِمًا [أَ]يْبَسَتِ الْأَرْضُ الْوَدِيسُ وَاجْتَاحَتْ جَمِيعَ الْبَنِينِ ، وَأَثْبَتْ حَتَّى قُنطَةَ الْقِنْطِةِ أَسَدٌ غَيْرُ نَاكِثٍ لِعَهْدِي ، وَلَا مُنْكِرٍ لِبَيْعَتِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلِّ عَنْكَ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاسِطٌ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِمُسِيءِ النَّهَارِ لِيَتُوبَ ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ . وَبَاسِطٌ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِمُسِيءِ اللَّيْلِ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ الْحَقَّ ثَقِيلٌ لِثِقَلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الْبَاطِلَ خَفِيفٌ لِخِفَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الْجَنَّةَ مَحْظُورٌ عَلَيْهَا بِالْمَكَارِهِ ، وَإِنَّ الدُّنْيَا مَحْظُورٌ عَلَيْهَا بِالشَّهَوَاتِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ ضَوْءِ النَّهَارِ وَظُلْمَةِ اللَّيْلِ ، وَعَنْ حَرِّ الْمَاءِ فِي الشِّتَاءِ ، وَعَنْ بَرْدِهِ فِي الصَّيْفِ ، وَعَنِ الْبَلَدِ الْأَمِينِ ، وَعَنْ مَنْشَأِ السَّحَابِ ، وَعَنْ مَخْرَجِ الْجَرَادِ ، وَعَنِ الرَّعْدِ وَالْبَرْقِ ، وَعَنْ مَا لِلرَّجُلِ مِنَ الْوَلَدِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا ظُلْمَةُ اللَّيْلِ وَضَوْءُ النَّهَارِ : فَإِنَّ الشَّمْسَ إِذَا سَقَطَتْ سَقَطَتْ تَحْتَ الْأَرْضِ فَأَظْلَمَ اللَّيْلُ لِذَلِكَ ، وَإِذَا أَضَاءَ الصُّبْحُ ابْتَدَرَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، وَهِيَ تُقَاعِسُ كَرَاهِيَةَ أَنْ تُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ، حَتَّى تَطْلُعَ فَتُضِيءُ ، فَيَطُولُ النَّهَارُ بِطُولِ مُكْثِهَا ، فَيَسْخُنُ الْمَاءُ لِذَلِكَ وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مُكْثُهَا فَبَرُدَ الْمَاءُ لِذَلِكَ . وَأَمَّا الْجَرَادُ : فَإِنَّهُ نَثْرَهُ حُوتٌ فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ : الْأَبْوَاتُ ، وَفِيهِ يَهْلَكُ . وَأَمَّا مَنْشَأُ السَّحَابِ : فَإِنَّهُ يَنْشَأُ مِنْ قِبَلِ الْخَافِقَيْنِ ، وَمِنْ [بَيْنِ] الْخَافِقَيْنِ تُلْجِمُهُ الصَبَا وَالْجَنُوبُ ، وَيَسْتَدْبِرُهُ الشَّمَالُ وَالدَّبُورُ . وَأَمَّا الرَّعْدُ : فَإِنَّهُ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِخْرَاقٌ ، يُدْنِي الْقَاصِيَةَ وَيُؤَخِّرُ الدَّانِيَةَ ، فَإِذَا رَفَعَ بَرَقَتْ ، وَإِذَا زَجَرَ رَعَدَتْ ، وَإِذَا ضَرَبَ صَعَقَتْ . وَأَمَّا مَا لِلرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ : فَإِنَّ لِلرَّجُلِ الْعِظَامَ وَالْعُرُوقَ وَالْعَصَبَ ، وَلِلْمَرْأَةِ اللَّحْمُ وَالدَّمُ وَالشَّعْرُ . وَأَمَّا الْبَلَدُ الْأَمِينُ : فَمَكَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو عِمْرَانَ ، ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ وَلَمْ يَنْقُلْ تَضْعِيفَهُ عَنْ أَحَدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله بن خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ، یہ انصاری نہیں ہیں ، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اعلان نبوت سے پہلے ) ان کے ساتھ اس قافلے میں موجود تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے آپ کے اندر کچھ چیزیں دیکھی ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، آپ اللہ کے نبی ہیں ، جو تہامہ سے نکلیں گے ، میں آپ پر ایمان لاتا ہوں ، جب میں آپ کے خروج کے بارے میں سنوں گا ، تو میں آپ کے پاس آ جاؤں گا ، پھر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب مکہ فتح ہو گیا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا : پہلے مہاجر کو خوش آمدید ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس پہلے اس لئے نہیں آ سکا ، ایسا نہیں ہے کہ میں آپ پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، یا میں نے آپ کی بیعت کا انکار کر دیا تھا ، یا آپ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا تھا ، میں قرآن پر بھی ایمان رکھتا تھا اور میں نے بتوں کا انکار بھی کیا تھا ، لیکن ہوا یہ کہ آپ کے بعد ہمیں شدید ترین قحط سالی کے مسلسل سالوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، جس نے گودے کو بے کار کر دیا ، سواریوں کو بیمار کر دیا ، اس کی وجہ سے دودھ غائب ہو گیا ، اور چھینکیں آنے لگیں ، اس کی وجہ سے سعادت مندی خلل پذیر ہو گئی ، زمین میں کھیتی باڑی کے تمام آلات ضائع ہو گئے ، مایوسی اور بے چینی نے جگہ بنا لی ، پریشانی مستحکم ہو گئی ، زمین کے نباتات خشک ہو گئے ، بال بچے ہلاکت کا شکار ہونے لگے ، بس مایوسی ہی مایوسی تھی ، بہرحال میں آپ کے پاس آیا ہوں ، ایسے عالم میں کہ میں نہ تو اپنے عہد کو توڑنے والا ہوں اور نہ ہی اپنی بیعت کا انکار کرنے والا ہوں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم اس کو چھوڑو ۔ اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کے وقت بڑھاتا ہے ، تاکہ دن کے وقت برائی کرنے والا توبہ کر لے ، اگر وہ شخص توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اور دن کے وقت وہ اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ، تاکہ رات کے وقت برائی کرنے والا توبہ کر لے ، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، حق قیامت کے دن اپنے بوجھ کی وجہ سے بوجھل ہو گا ، اور باطل قیامت کے دن اپنے ہلکے پن کی وجہ سے ہلکا ہو گا ، اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں کے اندر رکھا گیا ہے ، اور جہنم کو نفسانی خواہشات کے اندر رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کے بارے میں اور گرمیوں میں پانی کے گرم ہونے اور سردیوں میں ٹھنڈا ہونے اور بلدامین کے بارے میں اور جہاں سے بادل نکلتا ہے ۔ اس کے بارے میں اور جہاں سے ٹڈی دل نکلتا ہے ۔ اس کے بارے میں اور گرج چمک کے بارے میں بتائیے اور یہ بتائیے کہ بچے میں سے مرد کا کیا ہوتا ہے ، اور عورت کا کیا ہوتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہاں تک رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کا تعلق ہے تو جب سورج گرتا ہے تو وہ زمین کے نیچے چلا جاتا ہے ، اسی وجہ سے رات تاریک ہو جاتی ہے جب صبح کی روشنی ہوتی ہے تو ستر ہزار فرشتے لپک کر اس کی طرف جاتے ہیں اور وہ لیت و لعل سے کام لیتا ہے ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کی عبادت کی جائے ، یہاں تک کہ وہ طلوع ہوتا ہے تو روشنی کر دیتا ہے پھر دن بھر اس کے طویل ٹھہرنے کی وجہ سے دن طویل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے پانی گرم ہو جاتا ہے ، لیکن جب سردی ہوتی ہے تو اس کا ٹھہرنا کم ہو جاتا ہے ، اسی وجہ سے پانی ٹھنڈا ہوتا ہے ، جہاں تک ٹڈی دل کا تعلق ہے ، تو وہ سمندر میں موجود مچھلی کی چھینک سے پیدا ہوتا ہے ، جس کا نام ” ابوات “ ہے ، اور اس میں وہ ہلاک ہو جاتا ہے ، جہاں تک بادل کی پیدائش کا تعلق ہے ، تو زمین و آسمان کے درمیان والی طرف سے پیدا ہوتا ہے اور زمین و آسمان والی طرف سے صبا اور جنوب نامی ہوائیں اس کو لگام ڈالتی ہیں اور شمارل اور دبور نامی ہوائیں اسے پیچھے کر دیتی ہیں ، جہاں تک کڑک کا تعلق ہے تو ایک فرشتہ ہے ، جس کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا ہے ، وہ پیچھے والی کو قریب کرتا ہے اور قریب والی کو پیچھے کر دیتا ہے ، جب وہ ہاتھ اُٹھاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے ، جب وہ ڈانٹتا ہے تو کڑک پیدا ہوتی ہے ، جب وہ ضرب لگاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مرد کو عورت سے کیا ملتا ہے اور عورت کو مرد سے کیا ملتا ہے ، تو مرد کی طرف سے ہڈیاں پٹھے اور رگیں ہوتی ہیں اور عورت کی طرف سے گوشت خون اور بال ہوتے ہیں ، جہاں تک ” بلدامین “ کا تعلق ہے تو اس سے مراد ” مکہ “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن یعقوب ابوعمران ہے ، ذہبی نے اس حدیث کو اس کے حالات میں ذکر کیا ہے ، اور کسی شخص کے حوالے سے اس کے ضعیف ہونے کو نقل نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن یعقوب ابوعمران ہے ، ذہبی نے اس حدیث کو اس کے حالات میں ذکر کیا ہے ، اور کسی شخص کے حوالے سے اس کے ضعیف ہونے کو نقل نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13369
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ لَدِيكًا بَرَاثِنُهُ عَلَى الْأَرْضِ السَّابِعَةِ وَعُرْفُهُ مُنْضَوٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، جَنَاحَاهُ بِالْأُفُقَيْنِ ، فَإِذَا بَقِيَ ثُلْثُ اللَّيْلِ الْآخِرِ ضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، لَا إِلَهَ غَيْرُهُ . فَيَسْمَعُهُ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ ، فَتَرَوْنَ الدِّيَكَةَ إِنَّمَا تَضْرِبُ بِأَجْنِحَتِهَا إِذَا صَرَخَتْ ، إِذَا سَمِعَتْ ذَلِكَ " ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک مرغ پیدا کیا ہے ، جس کے پنجے ساتویں زمین پر ہیں اور کلغی عرش کے نیچے ہے ۔ اس کے دونوں پر دونوں افق میں ہیں ، جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، تو وہ اپنے دونوں پر مارتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، لَا إِلَهَ غَيْرُهُ» ( ہر عیب سے پاک ہے ۔ وہ جو باشادہ ہے ، اور پاک ہے ہمارا پروردگار ہر عیب سے پاک ہے ، جو بادشاہ ہے ، اور پاک ہے ۔ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ) تو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز اس کو سن لیتی ہے ، صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی جنات اور انسان ) اسے نہیں سن پاتے ہیں ، تو تم مرغ کو دیکھو گے کہ جب وہ اس آواز کو سنتا ہے ، تو وہ بھی اپنے پر مارتا ہے ، اور بانگ دیتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 13370
وَفِي رِوَايَةٍ : " سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم بادشاہ اور پاک ذات کی پاکی بیان کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ اور مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ اور مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 13371
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ أَذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ دِيكٍ قَدْ مَرَقَتْ رَجْلَاهُ الْأَرْضَ ، وَعُنُقُهُ مُنْثَنٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ رَبَّنَا . فَيَرُدُّ عَلَيْهِ : مَا عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ حَلَفَ بِي كَاذِبًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ سُهَيْلٍ الْأَعْرَجَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی کہ میں تمہیں اس مرغ کے بارے میں بتاؤں ، جس کے پاؤں زمین پر ہیں ، اور اس کی گردن عرش کے نیچے جھکی ہوئی ہے ، اور وہ یہ کہہ رہا ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے اے ہمارے پروردگار تو کتنا عظمت والا ہے ، تو پروردگار اسے جواب دیتا ہے : یہ بات وہ نہیں جانتا جو میرے نام کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن عباس بن فضل بن سہیل اعرج کا معاملہ مختلف ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن عباس بن فضل بن سہیل اعرج کا معاملہ مختلف ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13372
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ : إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دِيكًا تَحْتَ الْعَرْشِ ، جَنَاحُهُ فِي الْهَوَاءِ ، وَبَرَاثِنُهُ فِي الْأَرْضِ ، فَإِذَا كَانَ فِي الْأَسْحَارِ وَأَذَانُ الصَّلَوَاتِ خَفَقَ بِجَنَاحِهِ ، وَصَفَّقَ بِالتَّسْبِيحِ ، فَيُسَبِّحُ الدِّيَكَةُ ، فَتُجِيبُهُ بِالتَّسْبِيحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسُنَ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے ایک مرغ پیدا کیا ہے ، جس کے پر ہوا میں ہیں ، اس کے پنجے زمین میں ہیں ، جب سحری کا وقت ہوتا ہے یا نماز کے لئے اذان کا وقت ہوتا ہے ، تو وہ اپنے پر ہلاتا ہے ، اور تسبیح بیان کرتا ہے ، تو ( دنیا کے ) مرغ بھی تسبیح بیان کرتے ہوئے تسبیح کے ذریعے اسے جواب دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13373
وَعَنْ صَبَاحِ بْنِ أَشْرَسَ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ : إِنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِقَامُوسِ الْبَحْرِ ، فَإِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فَاضَتْ ، وَإِذَا رَفَعَهَا غَاضَتْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
صباح بن اشرس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مدوجزر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : ایک فرشتہ ہے جو سمندر کے درمیانی حصے پر مقرر ہے ، جب وہ اپنا پاؤں رکھتا ہے ، تو طغیانی آ جاتی ہے ، اور جب وہ اسے اٹھاتا ہے ، تو اس میں کمی آ جاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13374
وَعَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَدَارَتْ تَطْلُبُهُ ، فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا ، فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا ، فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا ، فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ . أَيْ : يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن ابوعیسیٰ بیان کرتے ہیں : سیدہ مریم علیہا السلام نے ایک مرتبہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو غیر موجود پایا ، تو وہ ان کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں ، ان کی ملاقات ایک جولاہے سے ہوئی ، اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی ، تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو تم ہمیشہ ایسے شخص کو حیران و پریشان دیکھو گے ، پھر ان کی ملاقات ایک درزی سے ہوئی ، اس نے ان کی رہنمائی کی ، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں سے انسیت محسوس ہوتی ہے ، یعنی ان کے ساتھ بیٹھا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن عیینہ کے حوالے سے ان سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن عیینہ کے حوالے سے ان سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13375
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ [أَبِي] مَرْيَمَ الْحَنَفِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ : مَا تَعْرِفُنِي ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : تَعْلَمُ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى الرَّدْمَ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ : أَنْتَ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : اجْلِسْ حَدِّثْنَا . قَالَ : انْطَلَقْتُ ، حَتَّى انْطَلَقْتُ إِلَى أَرْضٍ لَيْسَ لِأَهْلِهَا إِلَّا الْحَدِيدُ يَعْمَلُونَهُ ، فَدَخَلْتُ بَيْتًا فَاسْتَلْقَيْتُ فِيهِ عَلَى ظَهْرِي ، وَجَعَلْتُ رِجْلِي عَلَى جِدَارِهِ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، سَمِعْتُ صَوْتًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهُ ، فَرُعِبْتُ ، فَقَالَ لِي رَبُّ الْبَيْتِ : لَا تَذْعَرَنْ ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَضُرُّكَ ، هَذَا صَوْتُ قَوْمٍ يَنْصَرِفُونَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ هَذَا السَّدِّ . قَالَ : فَيَسُرُّكَ أَنْ تَرَاهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ ، فَإِذَا لَبِنُهُ مِنْ حَدِيدٍ ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِثْلُ الصَّخْرَةِ ، وَإِذَا كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ ، وَإِذَا مَسَامِيرُ مِثْلَ الْجُذُوعِ . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " صِفْهُ لِي " . فَقُلْتُ : كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ قَدْ أَتَى الرَّدْمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : صَدَقَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، تَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُغْرِبُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
یوسف بن ابومریم حنفی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے انہیں سلام کیا اور بولا: کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے ؟ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا: آپ اس شخص کو جانتے ہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا تھا : اس نے ( یاجوج ماجوج ) والی دیوار دیکھی ہوئی ہے ، تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو ، اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بیٹھو اور ہمیں بھی بیان کرو ، اس نے بتایا : ایک مرتبہ میں گیا اور ایک ایسی سرزمین پر پہنچ گیا ، جہاں کے رہنے والے لوگ صرف لوہے کا کام کرتے تھے ، میں ایک گھر میں داخل ہوا اور وہاں چت لیٹ گیا ، میں نے اپنا ایک پاؤں دیوار پر رکھا ، جب سورج غروب ہونے کا وقت ہوا تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز نہیں سنی تھی ، میں پریشانی کا شکار ہو گیا ، گھر کے مالک نے مجھ سے کہا: تم پریشان نہ ہو کیونکہ یہ چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ، یہ یاجوج ماجوج کی آواز ہے ، وہ اس وقت اس رکاوٹ سے واپس جاتے ہیں ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم اس دیوار کو دیکھنا چاہتے ہو ، میں نے کہا: جی ہاں ، وہ شخص کہتا ہے : پھر میں اس دیوار کی طرف گیا تو اس کی اینٹیں لوہے کی بنی ہوئی تھیں ، ان میں سے ہر ایک اینٹ چٹان کی مانند تھی اور وہ یوں لگتا تھا ، جیسے وہ نقش و نگار والی چادریں ہوں ، اور اُن کے کیل کجھور کے درختوں کی مانند تھے ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ، تو میں نے عرض کی : وہ محبرہ چادروں کی مانند تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی ایسے شخص کو دیکھے ، جو اس دیوار تک پہنچا ہے ، اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہئے ، تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے متروک قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے متروک قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13376
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13377
وَعَنْهُ قَالَ : لَيْسَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَكْثَرُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، يَخْلُقُهُمْ مِثْلَ الذُّبَابِ ، ثُمَّ يَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : كُونُوا أَلْفًا أَلْفَيْنِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان سے یہ روایت منقول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی مخلوق ، فرشتوں سے زیادہ نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں مکھیوں کی مانند ( کثیر تعداد میں ) پیدا کیا اور پھر پروردگار نے فرمایا : تم کئی ہزار ہو جاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13378
وَعَنْ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَبَا مُحَمَّدٍ ، مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ ؟ قَالَ : مِنْ مَاءٍ وَرِيحٍ وَنُورٍ وَظُلْمَةٍ . فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ [عَنْ ذَلِكَ] ، فَقَالَ فِيهَا كَمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَمُسْلِمٌ الْهَجَرِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسلم ہجری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابومحمد ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : پانی ، ہوا ، نور اور ظلمت سے ، پھر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے اس کے بارے میں وہی بات بیان کی جو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور مسلم ہجری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور مسلم ہجری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13379
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِمَّنْ كَانَ فِيكُمْ ، لَيَأْتِي عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَحْتَلِمَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُغْرِبُ ، وَتَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم سے پہلے جو لوگ ہوا کرتے تھے ، اگر ان میں سے کوئی تمہارے درمیان آ جائے ، تو وہ بالغ ہونے سے پہلے اَسّی سال کا ہو چکا ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اسے متروک قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اسے متروک قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13380
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ رِيحًا وَأَسْكَنَهَا بَيْتًا وَأَغْلَقَ عَلَيْهَا بَابًا ، فَلَوْ فَتَحَ ذَلِكَ الْبَابَ لَأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَمَا يَأْتِيكُمْ فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمْ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ ، وَأَنْتُمْ تُسَمُّونَهَا الْجَنُوبَ ، وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ الْأَذِيبَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ جَعْدَةَ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا کیا اور اسے ایک گھر میں ٹھہرایا اور اس کا دروازہ بند کر دیا ، اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے ، تو وہ ( یعنی ہوا ) آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز کو اڑا دے ، وہ تمہارے پاس ( مکمل طور پر ) نہیں آتی ہے ۔ وہ تمہارے پاس صرف دروازے کی جھری میں سے آتی ہے ، اور تم لوگ اسے ” جنوب “ کا نام دیتے ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ” اذیب“ ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 13381
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ قَدْ مَرَقَتْ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ السَّابِعَةَ ، وَالْعَرْشُ عَلَى مَنْكِبِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي الْإِيمَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں ایک ایسے فرشتے کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں ساتویں زمین میں ہیں ، اور عرش اس کے کندھے پر ہے ، اور وہ یہ کہتا ہے : تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو کہاں تھا اور تو کہاں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13382
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَجَرَّةُ الَّتِي فِي السَّمَاءِ هِيَ عِرْقُ حَيَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ انگیٹھی جو آسمان میں ہے ۔ وہ عرش کے نیچے موجود ایک سانپ کا پسینہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابوعمرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابوعمرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13383
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مُعَاذُ إِنِّي مُرْسِلُكَ إِلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ ، فَإِذَا سُئِلْتَ عَنِ الْمَجَرَّةِ الَّتِي فِي السَّمَاءِ ، فَقُلْ : هِيَ لُعَابُ حَيَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! میں تمہیں اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی قوم کی طرف بھیجنے لگا ہوں ، جب تم سے اس انگیٹھی کے بارے میں دریافت کیا جائے جو آسمان میں ہے ، تو تم یہ کہنا : یہ عرش کے نیچے موجود ایک سانپ کا لعاب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13384
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِنَّ الْعَرْشَ مُطَوَّقٌ بِحَيَّةٍ ، وَإِنَّ الْوَحْيَ لِيَنْزِلُ فِي السَّلَاسِلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرش کو ایک سانپ کے ذریعے طوق پہنایا گیا ہے اور ” وحی “ بیڑیوں میں نازل ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف کثیر بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف کثیر بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13385
وَعَنْهُ قَالَ : رُبُعُ مَنْ لَا يَلْبَسُونَ الثِّيَابَ مِنَ السُّودَانِ أَكْثَرَ مِنْ جَمِيعِ النَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو سیام فام لوگ لباس نہیں پہنتے ہیں ، ان کا چوتھا حصہ تمام لوگوں سے زیادہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔
حدیث نمبر: 13386
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجِنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ : صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ ، وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ ، وَصِنْفٌ يَحُلُّونَ وَيَظْعَنُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنات تین قسم کے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک قسم وہ ہے جن کے پر ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں ، ان میں سے ایک قسم سانپوں کی شکل میں ہوتی ہے ، اور ایک قسم وہ ہے جو کبھی اتر کر مقیم ہو جاتے ہیں اور کبھی رخصت ہو جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13387
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُمْرُ الذُّبَابِ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً ، وَالذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي هَذَا الْمَعْنَى أَحَادِيثُ فِيمَا نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِ فِي الصَّيْدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مکھی کی عمر چالیس دن ہوتی ہے ، اور تمام مکھیاں جہنم میں جائیں گی ، صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس مفہوم کی احادیث اس باب میں گزر چکی ہیں کہ شکار میں سے جس ( جانور ) کو مارنے کی ممانعت ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس مفہوم کی احادیث اس باب میں گزر چکی ہیں کہ شکار میں سے جس ( جانور ) کو مارنے کی ممانعت ہے ۔
حدیث نمبر: 13388
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا سُمِّيَ الْإِنْسَانُ لِأَنَّهُ عُهِدَ إِلَيْهِ فَنَسِيَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عِصَامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انسان کو انسان کا نام اس لئے دیا گیا تھا ، کیونکہ اس کے ساتھ عہد کیا گیا تھا ، اور پھر وہ ( اس عہد کو ) بھول گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عصام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عصام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔