کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جانوروں کے رخسار پر تھپڑ مارنے یا ان کو مارنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عِصِيًّا وَسِيَاطًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جانوروں کے رخسار پر تھپڑ مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے عصا اور کوڑے بنائے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی بقیہ ہے ، جو مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (131/4)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ : يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ ، الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ ، هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ شَيْئًا ؟ فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ : أَيُّهَا السَّائِلُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : ( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ) فَقَالَا : هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا ، وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن زیاد نے بسر کے دو صاحبزادوں کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ، جو دونوں سلمی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں ان دونوں کے پاس آیا ، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ دونوں پر رحم کرے ، ہم میں سے ایک شخص ہے جو اپنے جانور کو کوڑے کے ذریعے مارتا ہے اور اس کی لگام کو کھینچتا ہے ، تو کیا آپ دونوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ تو گھر کے اندر سے ایک عورت نے بلند آواز میں کہا: اے سوال کرنے والے شخص ! اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” زمین پر جو بھی جانور موجود ہے ، یا جو بھی پرندہ اپنے دو پروں کے ساتھ اُڑتا ہے ، تو وہ تم لوگوں کی مانند امت ( یعنی مخصوص قسم کی مخلوق ) ہیں ، ہم نے ہر چیز کا ذکر کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) میں ہے ۔ “ ﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ﴾
ان دونوں نے کہا: یہ ہماری بہن ہیں ، اور یہ ہم سے عمر میں بڑی ہیں ، اور خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (189/4)»