حدیث نمبر: 13225
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابٍّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ ، فَقَالَ لَهُمُ : " ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنے جانوروں پر بیٹھے ہوئے ٹھہرے ہوئے تھے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ سالم ہوں اور انہیں سلامتی کے عالم میں چھوڑ دو ، تم انہیں راستوں میں یا بازاروں میں آپس میں بات چیت کرنے کے لئے کرسی نہ بنا لو کیونکہ بعض اوقات سواری اپنے سوار سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ، اور سوار سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سہل بن معاذ بن انس کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سہل بن معاذ بن انس کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔