کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: چہرے پر مارنے کی ممانعت اور چہرے کو برا کہنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 13219
عَنْ أَسَدِ بْنِ وَدَاعَةَ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : جَرِيرٌ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَهْلِي يَعْصُونِي فَبِمَ أُعَاقِبُهُمْ ؟ قَالَ : " تَعْفُو " . ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : " إِنْ عَاقَبْتَ فَعَاقِبْ بِقَدْرِ الذَّنْبِ ، وَاتَّقِ الْوَجْهَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَسَدٌ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ ، فَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ ، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسد بن وداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص جس کا نام جریر تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے گھر والے میری نافرمانی کرتے ہیں ، تو میں کس چیز کے ذریعے انہیں سزا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم معاف کر دو ۔ اس نے دوسری مرتبہ یہی بات کی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے سزا ہی دینی ہے تو تم گناہ کے حساب سے سزا دینا اور چہرے پر مارنے سے بچنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اسد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تو
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اسد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تو
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13220
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُقَبِّحُوا الْوَجْهَ ، فَإِنَّ ابْنَ آدَمَ خُلِقَ عَلَى صُورَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چہرے کو قبیح قرار نہ دو کیونکہ انسان کی تخلیق رحمان کی صورت کے مطابق ہوئی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسماعیل طالقانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسماعیل طالقانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 13221
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ "
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ لڑائی کرے تو چہرے ( پر ضرب لگانے سے اور مارنے ) سے اجتناب کرے ۔ “
حدیث نمبر: 13222
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِذَا رَمَى أَوْ ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب کوئی شخص تیر مارے یا کوئی شخص ضرب لگائے ، تو چہرے سے اجتناب کرے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔