عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذُرْ ، أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ ، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ " . ¤ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَالْمِكَاسُ : الْعِشَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو اس شخص کو ٹیکس ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے کی مانند گناہ ہوتا ہے ۔ “ مکاس سے مراد عشار ہے ( یعنی عشر یعنی بھتہ وصول کرنے والا شخص ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13061
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنِ تُنُصِّلَ إِلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ ، لَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قُتَيْبَةَ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کے سامنے بری ہونے کا اظہار کیا جائے ( یا معذرت پیش کی جائے ) اور وہ قبول نہ کرے ، تو وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قتیبہ رفاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1033)»
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ ، وَبَرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ مِنْ شَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْهُ ، فَلَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ ، لَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ پاکدامن رہو تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی ، تم لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ نیکی کرو تمہارے بچے تمہارے ساتھ نیکی کریں گے ، جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے سامنے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عذر پیش کرے جو اس کے بارے میں اس تک پہنچی ہو ، اور وہ دوسرا شخص اس کے عذر کو قبول نہ کرے ، تو وہ ( دوسرا شخص ) میرے حوض پر وارد نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن زید عمری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13063
درجۂ حدیث محدثین: موضوع