حدیث نمبر: 13061
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذُرْ ، أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ ، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ " . ¤ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَالْمِكَاسُ : الْعِشَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو اس شخص کو ٹیکس ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے کی مانند گناہ ہوتا ہے ۔ “ مکاس سے مراد عشار ہے ( یعنی عشر یعنی بھتہ وصول کرنے والا شخص ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔