کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: لوگوں کے درمیان اصلاح کروانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13051
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يُحِبُّهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَبَاغَضُوا وَتَفَاسَدُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے ابوایوب ! کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے صدقہ کی طرف نہ کروں جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، آدمی لوگوں کے درمیان اس وقت صلح کروائے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھتے ہوں اور ایک دوسرے سے خراب تعلق رکھتے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13052
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى تِجَارَةٍ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " صِلْ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَفَاسَدُوا ، وَقَرِّبْ بَيْنَهُمْ إِذَا تَبَاعَدُوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی تجارت کی طرف نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کے درمیان تعلق قائم کرواؤ ، جب وہ ایک دوسرے کے خلاف ہو چکے ہوں اور ان کے درمیان قربت پیدا کرو ، جب وہ ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 13053
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي أَيُّوبَ بْنِ زَيْدٍ : ¤ " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى عَمَلٍ يَرْضَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : " تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَفَاسَدُوا ، وَتُقَرِّبُ بَيْنَهُمْ إِذَا تَبَاعَدُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوایوب بن زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے ابوایوب ! کیا تمہاری رہنمائی ایسے عمل کی طرف نہ کروں جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہوتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ جب وہ آپس میں ناچاقی کا شکار ہوں اور تم ان کے درمیان قربت پیدا کرو ، جب وہ ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد عبداللہ بن حفص ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد عبداللہ بن حفص ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13054
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَ ذَلِكَ ، وَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ، فَبَيْنَا هُمْ قُعُودٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ ، إِذْ تَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَوْسِ بِبَيْتٍ فِيهِ هِجَاءُ الْخَزْرَجِ ، وَتَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ بِبَيْتٍ فِيهِ هِجَاءُ الْأَوْسِ ، فَلَمْ يَزَلْ هَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ ، وَهَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ ، حَتَّى وَثَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، وَأَخَذُوا أَسْلِحَتَهُمْ وَانْطَلَقُوا لِلْقِتَالِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ الْحَيَّ ، فَجَاءَ مُسْرِعًا قَدْ حَسَرَ عَنْ سَاقَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهُمْ نَادَاهُمْ : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَاتِ ، فَوَحَشُوا بِأَسْلِحَتِهِمْ فَرَمُوا بِهَا ، وَاعْتَنَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَبْكُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دی ایک مرتبہ وہ لوگ ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے شعر سنایا جس میں خزرج قبیلے کی ہجو بیان کی گئی تھی ، پھر خزرج قبیلے کے ایک شخص نے ایک شعر سنایا جس میں اوس قبیلے کی ہجو بیان کی گئی تھی تو وہ لوگ مسلسل اس طرح کے اشعار سنانے لگے ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ، انہوں نے ہتھیار اٹھا لئے اور لڑائی کے لئے چل پڑے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ پر وحی نازل ہوئی ، آپ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، آپ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا ، جب آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ کیا تو انہیں پکار کر یہ آیت پڑھی : ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو جو اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور جب تم مرو تو تم مسلمان ہی ہونا ۔ “ یہاں تک کہ آپ یہ آیات تلاوت کر کے فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنا اسلحہ پکڑ کے ایک طرف کر دیا اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر رونے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غسان بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غسان بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13055
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ آپس میں صلح کروانا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13056
وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ : ¤ وَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَلَامٌ حَتَّى تَصَارَمَا ، فَلَقِيتُ أَحَدَهُمَا فَقُلْتُ : مَا لَكَ وَلِفُلَانٍ ؟ قَدْ سَمِعْتُهُ يُحْسِنُ عَلَيْكَ الثَّنَاءَ ، وَيُكْثِرُ لَكَ مِنَ الدُّعَاءِ . وَلَقِيتُ الْآخَرَ فَقُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ ، فَمَا زِلْتُ أَمْشِي بَيْنَهُمَا حَتَّى اصْطَلَحَا . فَقُلْتُ : مَا فَعَلْتُ ؟ أَهْلَكْتُ نَفْسِي ، وَأَصْلَحْتُ بَيْنَهُمَا . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِالْأَمْرِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُ مِنْ ذَا شَيْئًا وَلَا مِنْ ذَا شَيْئًا . فَقَالَ : " يَا أَبَا كَاهِلٍ ، أَصْلِحْ بَيْنَ النَّاسِ وَلَوْ بِكَذَا وَكَذَا - كَلِمَةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا - فَقُلْتُ : مَا عَنَى بِهَا ؟ قَالَ : عَنَى الْكَذِبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو افراد کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور وہ ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے ، میری ان دو میں سے ایک سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: کیا وجہ ہے تم فلاں سے کیوں ناراض ہو جبکہ میں نے تو اسے تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے ، اور وہ تمہارے لئے بکثرت دعا کر رہا تھا ، پھر میری دوسرے شخص سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے بھی اس کی مانند بات کہی ، میں مسلسل ان دونوں کے درمیان آتا جاتا رہا ، یہاں تک کہ ان دونوں کے درمیان صلح ہو گئی ، پھر میں نے سوچا کہ یہ میں نے کیا کیا ہے ؟ میں نے اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لیا ہے ، اور ان دونوں کے درمیان صلح کروا دی ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ میں نے اس سے کچھ سنا ہے اور نہ میں نے دوسرے سے کچھ سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوکاہل ! لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ ، خواہ اس اس کے عوض میں اسی طرح کرواؤ ، راوی کہتے ہیں : اس کی مانند کوئی کلمہ تھا ، جسے میں سمجھ سکا ، میں نے دریافت کیا : اس کے ذریعے آپ کی مراد کیا تھی ، تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد غلط بیانی کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 13057
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ قَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَّى خَيْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ جُرْجَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَقَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّاوِي عَنْهُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو بھلائی کی بات کہتا ہے یا بھلائی کو بڑھاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن جرجہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جس نے اس سے روایت نقل کی ہے اسے بھی یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن جرجہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جس نے اس سے روایت نقل کی ہے اسے بھی یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13058
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : ¤ " الْكَذِبُ مَكْتُوبٌ ، إِلَّا مَا نَفَعَ بِهِ مُسْلِمٌ أَوْ دَفَعَ بِهِ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ، ان کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ انہوں نے اس کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جھوٹ لکھا جاتا ہے البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے کسی مسلمان کو نفع پہنچایا جائے یا اس کے ذریعے کوئی ناگوار ( چیز ) کو پرے کیا جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں رشدین اور دیگر ضعیف راوی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں رشدین اور دیگر ضعیف راوی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13059
وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثًا : الرَّجُلُ يَكْذِبُ فِي الْحَرْبِ ; فَإِنَّ الْحَرْبَ خُدْعَةٌ ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ الْمَرْأَةَ فَيُرْضِيهَا ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُصْلِحُ بَيْنَهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الصُّلْحِ فِي الْأَحْكَامِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر جھوٹ انسان کے خلاف نوٹ کیا جاتا ہے البتہ تین قسموں کا معاملہ مختلف ہے ، آدمی جنگ کے دوران غلط بیانی کرے کیونکہ جنگ دھوکے کا نام ہے ، آدمی عورت ( یعنی بیوی ) کے ساتھ جھوٹ بولے : اور اسے راضی کرے ، آدمی دو آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کے لئے جھوٹ بولے : ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے احکام سے متعلق کتاب میں صلح کرنے سے متعلق باب میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے احکام سے متعلق کتاب میں صلح کرنے سے متعلق باب میں احادیث گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 13060
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ¤ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ : حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ ، فَاسْتَبَّا يَوْمًا فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا حَبَشِيُّ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَا قِبْطِيُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُولَا هَكَذَا ، أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو غلام تھے ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا ، ایک دن ان دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے حبشی ، دوسرے نے کہا: اے قبطی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس طرح نہ کہو ! تم دونوں آل محمد سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند اسی طرح نقل کی ہے ۔