حدیث نمبر: 13063
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ ، وَبَرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ مِنْ شَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْهُ ، فَلَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ ، لَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ پاکدامن رہو تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی ، تم لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ نیکی کرو تمہارے بچے تمہارے ساتھ نیکی کریں گے ، جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے سامنے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عذر پیش کرے جو اس کے بارے میں اس تک پہنچی ہو ، اور وہ دوسرا شخص اس کے عذر کو قبول نہ کرے ، تو وہ ( دوسرا شخص ) میرے حوض پر وارد نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن زید عمری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔