کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی ایسے دو افراد کے درمیان نہ بیٹھے جو آپس میں بات چیت کر رہے ہوں ، البتہ ان دونوں کی اجازت کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ ، فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا ، حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا " . ¤
محمد محی الدین
سعید مقبری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھا ، ان کے ساتھ ایک شخص بات چیت کر رہا تھا ، میں ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب دو آدمی آپس میں بات چیت کر رہے ہوں ، تو تم ان دونوں سے اجازت لیے بغیر ان کے پاس نہ بیٹھو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12947
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند 114/2»
وَفِي رِوَايَةٍ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُنَاجِي رَجُلًا ، فَدَخَلَ رَجُلٌ بَيْنَهُمَا . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک شخص کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کرتے ہوئے دیکھا ، ایک شخص ان دونوں کے درمیان داخل ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12948
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (138/2)»