کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: دو آدمی ، تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت نہ کریں
حدیث نمبر: 12949
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا يَحِلُّ أَنْ تَنْكِحَ الْمَرْأَةُ بِطَلَاقِ أُخْرَى ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبَهُ حَتَّى يُدْرِيَهُ ، وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ ، يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی عورت کے ساتھ دوسری عورت ( یعنی پہلی بیوی ) کی طلاق کی شرط پر نکاح کیا جائے اور کسی شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے ، جب تک دوسرا شخص اسے چھوڑ نہیں دیتا ، اور تین افراد کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر موجود ہوں اور ان میں سے دو افراد اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت کریں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12950
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تین افراد ہوں ، تو ان میں سے دو افراد اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12951
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى إِذَا كَانَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ ، أَنْ يَنْتَجِيَ اثْنَانِ مِنْهُمْ دُونَ الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جب تین افراد ہوں ، تو ان میں سے دو افراد تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 12952
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُؤْمِنَ ، وَاللَّهُ يَكْرَهُ أَذَى الْمُؤْمِنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْوَرْدِ اسْمُهُ وُهَيْبُ بْنُ الْوَرْدِ ، كَمَا ذَكَرَ شَيْخُ الْحُفَّاظِ الْمِزِّيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو افراد تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں کیونکہ یہ چیز مومن کو تکلیف دیتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ مومن کو تکلیف دینے کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن کثیر کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے عبدالوہاب بن ورد کا نام وہیب بن ورد ہے جیسا کہ حافظان حدیث کے استاد امام مزی نے یہ بات ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن کثیر کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے عبدالوہاب بن ورد کا نام وہیب بن ورد ہے جیسا کہ حافظان حدیث کے استاد امام مزی نے یہ بات ذکر کی ہے ۔